پاکستان میں ہر سال 22 لاکھ حمل ضائع

مذہبی اور غیر مذہبی معاشروں میں مانع حمل دواؤں اور اقدامات کو قبول کر لیا جاتا ہے۔ لیکن، حمل ضائع کرانے پر اس لیے تنقید کی جاتی ہے کہ بعض لوگ اسے ایک زندگی کا قتل سمجھتے ہیں

امریکہ میں حمل ضائع کرانے کے فیصلے کو عورت کی آزادی کے ساتھ جوڑا جاتا ہے۔

لیکن، پاکستان جیسے قدامت پرست معاشرے میں اکثر یہ عورت کا فیصلہ نہیں ہوتا۔ کبھی یہ کسی طبی پیچیدگی کا نتیجہ بن جاتا ہے؛ اور بعض اوقات میاں بیوی وقفے کی کوشش میں ناکام ہونے کے بعد یہ فیصلہ کرتے ہیں۔

مذہبی اور غیر مذہبی معاشروں میں مانع حمل دواؤں اور اقدامات کو قبول کر لیا جاتا ہے۔ لیکن، حمل ضائع کرانے پر اس لیے تنقید کی جاتی ہے کہ بعض لوگ اسے ایک زندگی کا قتل سمجھتے ہیں۔ اس پس منظر میں بعض لوگوں کو یہ جان کر دھچکا لگے گا کہ ہر سال پاکستان میں بائیس لاکھ خواتین حمل ضائع کراتی ہیں۔

اس بارے میں تازہ اعداد و شمار اقوام متحدہ کے ’پاپولیشن فنڈ‘ نے ایک سروے کے بعد جاری کیے ہیں اور کہا ہے کہ تقریباً تمام ’ابورشن‘ چھپا کر کیے گئے اور بیشتر مواقع پر خواتین کی زندگی داؤ پر لگی ہوئی تھی۔

’پاکستان ڈیموگرافگ اینڈ ہیلتھ سروے‘ کے عنوان سے جاری کردہ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ دیسی طریقوں سے حمل ضائع کرانے یا غیر تربیت یافتہ عملے سے ’ابورشن‘ کروانے کی وجہ سے چھ لاکھ تیس ہزار خواتین کو مختلف پیچیدگیوں کا سامنا ہوا اور انھیں مزید علاج کرانا پڑا۔

’نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف پاپولیشن اسٹڈیز‘ کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر، پرویز جونیجو نے ’وائس آف امریکہ‘ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ 51 فیصد لوگوں کی خاندانی منصوبہ بندی کے جدید طریقوں تک رسائی نہیں۔ اس کا نتیجہ ان چاہے حمل کی صورت میں نکلتا ہے۔

انھوں نے بتایا کہ ماضی کے مقابلے میں ان لوگوں کی شرح بڑھی ہے جن کی اب مانع حمل طریقوں تک رسائی ہے۔ لیکن، آبادی میں اضافے کی وجہ ان لوگوں کی تعداد بھی زیادہ ہوئی ہے جن کی ان ذرائع تک پہنچ نہیں۔

پرویز جونیجو نے کہا کہ ایسے تربیت یافتہ ماہرین کی ضرورت ہے جو لوگوں کو اور خاص طور پر خواتین کو بتائیں کہ خاندانی منصوبہ بندی کیسے کی جا سکتی ہے۔

اگر نچلی سطح پر اس قسم کی مشاورت ملے، صحت کے مراکز موجود ہوں، مانع حمل ادویہ دستیاب ہوں تو ابورشن کی تعداد کم کرنے میں کافی مدد مل سکتی ہے۔ اس طرح خواتین کی زندگی کو لاحق خطرات گھٹائے جاسکیں گے۔

’این آئی پی ایس‘ کے مطابق، 1990 میں پاکستان میں اوسطاً ہر خاتون 5.4 بچوں کو جنم دے رہی تھیں اور اب یہ شرح 3.6 بچوں تک گھٹ گئی ہے۔

ماہرین کہتے ہیں کہ آبادی کی رفتار میں کمی اور لاکھوں کی تعداد میں ’ابورشن‘ ہونے سے پتا چلتا ہے کہ پاکستانی عورت کم بچے پیدا کرنا چاہتی ہے۔ لیکن، اس کے پاس خاندانی منصوبہ بندی کے وسائل نہیں۔ اور، یہاں سے حکومت کا کام شروع ہوتا ہے۔