رسائی کے لنکس

logo-print

نوزائیدہ بچوں کی اموات میں پاکستان سرِ فہرست


فائل فوٹو

رپورٹ کے مطابق دنیا کے جن 10 ممالک میں نوزائیدہ بچوں کا ایک ماہ سے بھی کم عرصے میں انتقال کا خطرہ سب سے زیادہ ہے ان میں اکثریت افریقہ کے صحارا خطے اور جنوبی ایشیا کے ممالک کی ہے۔

پاکستان دنیا کے ان ملکوں کی فہرست میں پہلے نمبر پر ہے جہاں پیدائش کے بعد ایک ماہ سے بھی کم عرصے میں انتقال کر جانے والے بچوں کی شرح سب سے زیادہ ہے۔

یہ بات اقوامِ متحدہ کے ادارہ برائے اطفال (یونیسیف) نے منگل کو جاری کردہ اپنی رپورٹ میں کہی ہے۔

عالمی ادارے نے رپورٹ میں اس تشویش کا اظہار کیا ہے کہ دنیا کے غریب ترین ممالک میں نوزائیدہ بچوں کی شرحِ اموات کم کرنے کے لیے قابلِ ذکر پیش رفت دیکھنے میں نہیں آرہی۔

رپورٹ کے مطابق دنیا کے جن 10 ممالک میں نوزائیدہ بچوں کا ایک ماہ سے بھی کم عرصے میں انتقال کا خطرہ سب سے زیادہ ہے ان میں اکثریت افریقہ کے صحارا خطے اور جنوبی ایشیا کے ممالک کی ہے۔

پاکستان میں یہ شرح ایک ہزار میں سے تقریباً 46 ہے جب کہ ہر 22 بچوں میں سے ایک نوزائیدہ بچے کو موت کا خطرہ لاحق ہوتا ہے۔

اس کے مقابلے میں رپورٹ میں ترقی یافتہ ملکوں میں جہاں نوزائیدہ بچوں کی شرحِ اموات خاصی کم ہے، جاپان کا تذکرہ کرتے ہوئے بتایا گیا ہے کہ وہاں 1111 نوزائیدہ بچوں میں سے ایک کے انتقال کرجانے کا خطرہ ہوتا ہے۔

یونیسف کے مطابق افریقی ممالک میں غربت کی وجہ سے حاملہ خواتین کو مناسب طبی امداد میسر نہیں ہوتی اور بعض ممالک میں جاری تنازعات کے باعث وہاں کمزور انتظامی ڈھانچے کی وجہ سے بھی اس جانب کوئی توجہ نہیں دی جاتی۔

پاکستان جہاں ماضی کی نسبت زچہ و بچہ کے لیے طبی سہولتوں میں بہتری آئی ہے اور زچگی کے لیے قدرے بہتر ماحول اور تربیت یافتہ طبی عملہ بھی موجود ہے، لیکن اس کے باوجود یہاں نوزائیدہ بچوں کی شرحِ اموات کم نہیں ہو سکی ہے۔

ماہرین اس کی عمومی وجہ حاملہ خاتون کی صحت کی مناسب دیکھ بھال نہ ہونے، غذائیت کی کمی اور زچگی کے بعد نوزائیدہ بچے کے لیے ضروری طبی نگہداشت کے مناسب انتظامات کا نہ ہونے بتاتے ہیں۔

یونیسف کی رپورٹ کے مطابق دنیا میں ہر سال تقریباً 26 لاکھ بچے اپنی پیدائش کے ایک ماہ کے اندر ہی انتقال کر جاتے ہیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG