افغان فوج سے سخت لڑائی کے بعد طالبان کلیدی ضلعے سے پسپا

فائل

افغانستان میں حکام نے بتایا ہے کہ فوجی قیادت میں کی جانے والی انسداد دہشت گردی کی ایک کارروائی کے دوران شمال مشرقی صوبہٴ بدخشاں میں واقع حکمت عملی کے اعتبار سے ایک اہم ضلعے کو طالبان سے واگزار کرا لیا گیا ہے، اور پسپائی اختیار کرتے ہوئے باغیوں کو شدید جانی نقصان پہنچا ہے۔

گذشتہ ہفتے کے اواخر میں طالبان نے ارغنج خواہ پر دھاوا بول دیا تھا، جو صوبائی دارالحکومت فیض آباد کے مضافات میں واقع ہے، جس کے نتیجے میں اس سنگلاخ افغان صوبے کے کم از کم 10 دیگر اضلاع کے ساتھ روابط منقطع ہو چکے ہیں، جس کی سرحدیں پاکستان اور چین کے ساتھ ملتی ہیں۔

وزارت داخلہ کے ترجمان نصرت رحیمی نے ایک ٹوئیٹ میں کہا ہے کہ ضلعے کو واگزار کرانے کی کارروائی منگل کو مکمل ہوئی، جس دوران کم از کم 14 سرکش ہلاک جب کہ متعدد زخمی ہوئے۔

صوبائی حکومت کے ترجمان، نیک محمد نظری نے ’وائس آف امریکہ‘ کو بتایا ہے کہ طالبان کے ٹھکانوں کے خلاف فضائی کارروائیاں کی گئیں، جن کے نتیجے میں باغی ضلعے سے فرار ہونے پر مجبور ہوئے۔

طالبان نے دعویٰ کیا ہے کہ اُس کے لڑاکوں نے ارغنج خواہ کو خالی کر دیا ہے جب کہ اُنھوں نے ایک کلومیٹر دور نئے مورچے سنبھال لیے ہیں۔

طالبان کے ترجمان، ذبیح اللہ مجاہد نے صحافیوں کو بھیجے گئے ایک مختصر بیان میں کہا ہے کہ ’’ایک فوجی کارروائی کے دوران دشمن نے ضلعی صدر دفتر پر قبضہ جمانے کا دعویٰ کیا ہے اور کہا ہے کہ (طالبان) کی ہلاکتیں واقع ہوئی ہیں، جو ایک من گھڑت کہانی ہے‘‘۔

طالبان کا 50 فی صد افغان علاقے پر یا تو قبضہ ہے یا پھر قبضے کا دعویٰ ہے۔ حالیہ ہفتوں کے دوران طالبان نے متعدد صوبوں میں افغان افواج پر حملے تیز کر دیے ہیں۔

بتایا گیا ہے کہ مارچ کے مہینے میں مبینہ طور پر سیکڑوں سیکورٹی افواج کو ہلاک یا زخمی کیا گیا۔ میدان جنگ میں ہلاک ہونے والوں میں امریکی فوج کے دو خصوصی اہل کار بھی شامل تھے۔