افغانوں نے چیلنج کا لمحہ ’عمدہ موقع‘ میں بدل ڈالا: کیری

فائل

’ایسے میں جب افغانستان اپنی تاریخ کے ایک نئے باب کا آغاز کر رہا ہے، امریکہ کی نگاہیں اقتدار اعلیٰ کے مالک، متحد اور جمہوری افغانستان کے ساتھ فروغ پاتی ہوئی اپنی پائیدار ساجھے داری پر لگی ہوئی ہیں‘

امریکی وزیر خارجہ جان کیری نے کہا ہے کہ ’افغانوں نے درپیش چیلنج کے ایک لمحے کو ایک حقیقی موقع میں بدل ڈالا ہے‘۔

نئے افغان صدر اشرف غنی اور چیف اگزیکٹو عبداللہ عبداللہ کو بھیجے گئے ایک تہینتی پیغام میں، اُنھوں نے کہا کہ اُن کا عہدہ سنبھالنا ایک ’تاریخ ساز‘ لمحہ تھا۔

اُنھوں نے کہا کہ وہ کئی برسوں سے عہدہ سنبھالنے والے دونوں افغان رہنماؤں سے مانوس ہیں، اور اُنھیں بخوبی علم ہے کہ ’دونوں ہی محبِ وطن ہیں، جنھیں اپنے وطن کی کامیابی عزیز ہے‘۔

جان کیری نے سبک دوش ہونے والے صدر، کرزئی کی طرف سے جمہوریت، ترقی اور سلامتی کے لیے کیے گئے کام کو سراہا۔

بقول اُن کے، یہ کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں کہ صدر کرزئی کے ساتھ ہمارے مراسم نااتفاقی کا شکار رہے۔

’تاہم، ہر ہمیشہ، دنیا نے یہ بات تسلیم کی ہے کہ وہ ایک قوم پرست، محب وطن اور خاص شخصیت کے مالک ہیں، جو اپنے ملک کی ضرورت کے وقت آگے بڑھے اور افغان تاریخ کے ایک دشوار ترین عہد میں خدمات انجام دیں، جس دوران قابلِ قدر ترقی دیکھنے میں آئی‘۔

اُنھوں نے کہا کہ ایک لمحے کے لیے بھی یہ نہیں بھولنا چاہیئے کہ افغانستان نے کیا کچھ حاصل کیا۔ ’اس سلسلے میں، سخت محنت اور قربانیاں دینے پر، ہم دنیا بھر کے متعدد ممالک کے شکرگزار ہیں، جس کے علاوہ جمہوری نظام کو پختہ کرنے میں حاصل ہونے والی پیش رفت کو بھی دیکھا جائے۔ افغانستان نے اپنے عوام کی عمر کی شرح میں اضافہ، صحت اور تعلیم کے فروغ کے لیے بے مثال پیش رفت حاصل کی، خصوصی طور پر خواتین اور بچیوں سے متعلق معاملات کے سلسلے میں‘۔

جان کیری نے اپنے حالیہ دورہٴ کابل کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا، کہ اگر میں نے کوئی بات سیکھی تو وہ یہ کہ افغان عوام منقسم ہونے کے مقابلے میں متحد ہونے کو ترجیح دیتے ہیں، اور اس بات کو یقینی بنانے کے خواہاں ہیں کہ یہ جمہوریت کا پہلا پُرامن عبوری دور اُن کی تاریخ کا آخری موقع ثابت نہیں ہوگا۔

بقول اُن کے، یہ شروعات ہے نہ کہ اختتام۔ اور جیسا کہ شروع کیے جانے والے تمام معاملات میں ہوا کرتا ہے، کٹھن فیصلے کرنے ہوں گے۔

اُنھوں نے کہا کہ، ’ایسے میں جب افغانستان اپنی تاریخ کے ایک نئے باب کا آغاز کر رہا ہے، امریکہ کی نگاہیں اقتدار اعلیٰ کے مالک، متحد اور جمہوری افغانستان کے ساتھ فروغ پاتی ہوئی اپنی پائیدار ساجھے داری پر لگی ہوئی ہیں‘۔