عراق: داعش کے متاثرین کی ایک اور اجتماعی قبر دریافت

فائل

حکام کا خیال ہے کہ قبر میں مدفون افراد مئی 2015ء میں سقوطِ رمادی سے قبل داعش کے خلاف مزاحمت کرنے والے چند آخری لوگوں میں شامل تھے۔

عراق کے شہر رمادی میں حکام نے مبینہ طور پر شدت پسند تنظیم داعش کے جنگجووں کے ہاتھوں قتل ہونے والے افراد کی ایک اجتماعی قبر دریافت کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔

حکام کا کہنا ہے کہ قبر میں کم از کم 40 لاشیں موجود ہیں جن میں سے کئی عورتوں اور بچوں کی ہیں۔ حکام کو شبہ ہے کہ یہ افراد گزشتہ سال مئی میں رمادی سے سرکاری فوج کی پسپائی اور شہر پر داعش کے قبضے کے وقت جنگجووں کے ہاتھوں ہلاک ہوئے تھے۔

عراق کے صوبہ انبار کی پولیس نے بدھ کو اپنے فیس بک صفحے پر مبینہ قبر کی ایک ویڈیو جاری کی ہے جس میں امدادی اہلکاروں کو ایک قبر نما گڑھے سے خستہ حال لاشیں اور ڈھانچے نکالتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔

ویڈیو میں صوبہ انبار کی پولیس کےسربراہ میجر جنرل ہادی رزیج کو قبر کے بارے میں تفصیلات بیان کرتے دیکھا جاسکتا ہے۔

صوبہ انبار کے گورنر کے ایک مشیر اور عراقی وزارتِ داخلہ کے ترجمان بریگیڈیئر جنرل سعد مان نے ویڈیو کے درست ہونے کی تصدیق کی ہے۔

صوبہ انبار کے گورنر صہیب الراوی نے 'ٹوئٹر' پر اپنے بیان میں کہا ہے کہ حکام کا خیال ہے کہ قبر میں مدفون افراد مئی 2015ء میں سقوطِ رمادی سے قبل داعش کے خلاف مزاحمت کرنے والے چند آخری لوگوں میں شامل تھے۔

گورنر الراوی کے ایک مشیر محند ہیمور نے 'رائٹرز' کو بتایا ہے کہ رمادی کے مرکزی ضلعے میں دریافت ہونے والی قبر میں موجود کم از کم 15 لاشیں مبینہ طور پر پولیس اہلکاروں کی ہیں جن کے شناختی کارڈز بھی قبر سے برآمد ہوئے ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ تمام لاشوں کی شناخت نہیں ہوسکی ہے لیکن قبر میں کئی عورتوں اور بچوں کی لاشیں بھی موجود ہیں جو غالباً پولیس اہلکاروں کے اہلِ خانہ کی ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ حکام کو قبر کی موجودگی کا علم داعش کے گرفتار ہونے والے بعض جنگجووں سے تفتیش کے دوران ہوا تھا۔

رمادی عراق کے سنی اکثریتی صوبے انبار کا دارالحکومت ہے جس پر گزشتہ سال داعش کے جنگجووں نے دھاوا بول کر قبضہ کرلیا تھا۔

کئی ماہ کی تیاریوں کے بعد گزشتہ ماہ دسمبر میں عراق کی فوج نے امریکی اتحاد کی فضائی کارروائیوں کی مدد سے داعش کے خلاف کامیاب جوابی کارروائی کرکے رمادی کا قبضہ دوبارہ حاصل کرلیا تھا۔

لیکن لڑائی کے دوران شہر کو بری طرح نقصان پہنچا ہے جب کہ حکام کا کہنا ہے کہ شدت پسند شہر سے پسپا ہوتے ہوئے اس کی گلیوں اور گھروں میں جابجا بارودی سرنگیں بچھاگئے ہیں جس کے باعث شہر سے بے دخل باشندوں کی تاحال اپنے گھروں کو واپسی ممکن نہیں ہوسکی ہے۔

داعش کے قبضے میں جانے والے جن علاقوں پر عراقی سکیورٹی فورسز نے دوبارہ کنٹرول حاصل کیا ہے ان میں بیشتر علاقوں میں ایسی اجتماعی قبریں دریافت ہوئی ہیں جن میں جنگجووں کے ہاتھوں تعذیب اور تشدد کا شکار ہونے والے افراد اور عام شہری دفن ہیں۔