ایران اور آسٹریلیا کا داعش کے خلاف تعاون پر اتفاق

وزیر خارجہ جولی بشپ آسٹریلیا کی پہلی اعلیٰ سفارتی عہدیدار ہیں جنہوں نے کئی دہائیوں کے بعد اس ہفتے ایران کا دورہ کیا۔

آسٹریلیا اور ایران نے مشرق وسطیٰ میں سرگرم داعش کے جنگجوؤں سے نمٹنے کے لیے انٹیلیجنس معلومات کے تبادلہ کے ایک غیر رسمی سمجھوتے پر اتفاق کیا ہے۔

اس بات کی تصدیق پیر کو آسٹریلیا کے سرکاری نشریاتی ادارے نے کی ہے۔

آسٹریلیا نے داعش کے خلاف برسرپیکار عراقی فورسز کی تربیت کے لیے سینکڑوں کی تعداد اپنے فوجی عراق بھیجے ہیں جس کے ردعمل میں ملک کے اندر ممکنہ حملوں کے بارے میں بڑی تشویش پائی جاتی ہے۔

وزیر خارجہ جولی بشپ آسٹریلیا کی پہلی اعلیٰ سفارتی عہدیدار ہیں جنہوں نے کئی دہائیوں کے بعد اس ہفتے ایران کا دورہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ داعش کو شکست دینا دونوں ملکوں کا مشترکہ مقصد ہے۔

انہوں نے کہا کہ ’’یہ ایک غیر رسمی سمجھوتا ہے جس کے تحت ہم ایسی انٹیلی جنس معلومات کا تبادلہ کریں گے جس سے ہمیں ان آسٹریلوی شہریوں کے بارے میں معلومات حاصل ہوں گی جو (داعش کے ساتھ مل کر لڑائی میں) حصہ لے رہے ہیں۔‘‘

جولی بشپ نے مزید کہا کہ ’’میرے خیال میں ایران کے پاس وہ معلومات ہیں جو ہم حاصل کرنا چاہیں گے اور وہ بھی ان معلومات کا ہمارے ساتھ تبادلہ کرنے پر تیار ہیں۔‘‘

آسٹریلیا اور ایران کی وزارت خارجہ کے نمائندوں سے اس بارے میں ان کا ردعمل جاننے کے فوری طور رابطہ نہیں ہو سکا۔

عراقی فورسز نے ایران کی حمایت یافتہ شیعہ ملیشیا کے ساتھ مل کر اس ماہ کے اوائل میں تکریت کا قبضہ واپس لیا تھا۔ تکریت عراق کے سابق فوجی صدر صدام حسین کا آبائی قصبہ ہے۔

آسٹریلیا کی پولیس نے ہفتے کو پانچ نو عمر لڑکوں کو گرفتار کیا تھا جو پولیس کے مطابق داعش سے متاثر ہو کر ایک حملے کا منصوبہ بنا رہے تھے جس کا نشانہ آئندہ ہفتے ہونے والی وہ تقریب تھی جو پہلی عالمی جنگ کے دوران آسٹریلیا اور نیوزی لنیڈ کے فوجیوں کے گیلی پولی پر اترنے کے ایک سو سال مکمل ہونے پر منعقد کی جا رہی ہے۔

آسٹریلوی پولیس کو گزشتہ سال کے دوران داعش سے متاثر ہو کر کیے جانے والے کئی ممکنہ حملوں کا سامنا رہا ہے۔