’بول کے ساتھ زیادتی ہو رہی ہے‘: سکریٹری جنرل پی ایف یو جے

خاور نعیم ہاشمی نے کہا ہے کہ اب جبکہ ماہِ رمضان شروع ہوگیا ہے اور اس کے بعد عید بھی آنی ہے، ایسے میں بول کے 2300 ملازمین اپنے بال بچوں کی ضروریات کیسے پوری کریں گے؟۔۔۔ ’بول گروپ ٹی وی، ریڈیو اور فلم کے علاوہ اردو و انگریزی اخبارات شائع کرنے کا بھی ارادہ رکھتا ہے‘

بول نیوز جو یکم رمضان کو اپنی نشریات شروع کرنے والا ہے، اس کی آزمائشی نشریات کو بعض علاقوں میں کیبل آپریٹرز نے پہلے ہی دکھانا شروع کر دیا ہے۔

پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس کے سکریٹری جنرل، امین یوسف کا کہنا ہے کہ بول کے ساتھ زیادتی ہو رہی ہے۔ انھوں نے کہا ہے کہ ’دیگر چینل مالکان اور حکومت کی سطح پر جو بھی بول گروپ اور اس کے ملازمین کے ساتھ زیادتی کر رہا ہے انہیں چاہیئے کہ اسے روک دیں اور بول کو آنے دیں‘۔

بول میڈیا گروپ میں اس وقت تقریباً 2300 کے قریب ملازمین ہیں جن کے خاندانوں کا مستقبل اس ادارے کے ساتھ جڑا ہوا ہے۔

بول لاہور کے بیورو چیف اور سینیئر ایگزیکٹو وائس پریذیڈنٹ، خاور نعیم ہاشمی 45 سال سے شعبہٴ صحافت سے منسلک ہیں اور بول نیوز میں آنے سے پہلے جیو نیوز لاہور کے بیورو چیف تھے۔ وہ کہتے ہیں کہ ایگزیکٹ کمپنی کے خلاف ہونے والی کارروائی کا اصل مقصد بول چینل کی نشریات کو روکنا ہے، کیونکہ بول نے پاکستان کے تمام بڑے میڈیا اداروں میں موجود تجربہ کار صحافیوں اور دیگر ملازمین کو بہتر تنخواہوں اور سہولیات کے ساتھ ملازمت دی۔

خاور نعیم ہاشمی نے کہا ہے کہ ایک اسائنمٹ ایڈیٹر یا ویڈیو ایڈیٹر جو کئی سالوں سے ایک ہی تنخواہ پر کام کر رہا تھا، بول نے ایسے ملازمین کو نہ صرف پانچ گنا زیادہ تنخواہ پر ملازمت دی بلکہ میڈکل، لائف انشورنس اور پینشن کی سہولیات بھی دیں گے۔

خاور نعیم ہاشمی کہتے ہیں کہ پاکستان میں جتنے بھی تجربہ کار صحافی ہیں وہ اس شرط کے ساتھ بول سے منسلک ہوئے تھے کہ ادارے کے ٹی وی چینل اور اخبارات کی ایڈیٹوریل یا ادارتی پالیسی مالک نہیں، بلکہ صحافی طے کریں گے اور اس کے لیے ہر سطح پر ادارتی سٹاف رکھا جائے گا۔

پاکستان میں بعض سینئر صحافی میڈیا تنظیموں اور نیوز چینلز پر تنقید کرتے ہیں کہ ان اداروں میں ایڈیٹر کا عہدہ ختم کر دیا گیا، یا اگر ہے بھی تو گزشتہ کئی سالوں سے یہ عہدہ خالی پڑا ہے، کیونکہ چینل اور اخبار مالکان خود ادارتی پالیسی سنبھالتے ہیں، جس کے باعث ماضی میں نجی چینلوں اور ریاستی اداروں کے درمیان تنازعات بھی پیدا ہوئے۔

بول کے ملازمین شعیب شیخ کی پیشی پر عدالت کے باہر احتجاج کرتے ہوئے

​خاور نعیم ہاشمی نے کہا کہ ایگزیکٹ کے چیف ایگزیکٹو شعیب شیخ کے خلاف عدالت میں جو چالان پیش کیا گیا، وہ، بقول اُن کے،’اتنا کزور تھا کہ عدالت نے اس کی بنیاد پر کوئی بھی کارروائی کرنے سے انکار کر دیا، جس کے بعد ایف آئی اے نے مزید مہلت مانگی‘۔

پی ایف یو جے کے سکریٹری جرنل امین یوسف نے کہا ہے کہ ’ایگزیکٹ کے ساتھ کیا ہو رہا ہے، ہمیں اس سے کوئی واسطہ نہیں۔ یہ معاملہ قانون اور ایگزیکٹ کے درمیان ہے۔ لیکن، بول کو جس طرح روکنے کی کوشش کی جا رہی ہے یہ آزادیء صحافت پر حملہ ہے‘۔

بقول اُن کے، ’بول نے اپنے ملازمین کو جو مراعات دی ہیں وہ پاکستان کا صحافی تو کیا میڈیا میں کام کرنے والا کوئی بھی شخص اس کا تصور بھی نہیں کر سکتا تھا۔‘

خاور نعیم ہاشمی نے کہا کہ بول کے چوکیدار سے لے کر ایڈیٹر تک کسی ایک بھی ملازم کو مئی کی تنخواہ نہیں ملی، کیونکہ قانون نافذ کرنے والے اداروں نے بول کے اکاؤنٹ بھی منجمد کر دیے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اب جبکہ ماہِ رمضان شروع ہوگیا ہے اور اس کے بعد عید بھی آنی ہے، ایسے میں بول کے 2300 ملازمین اپنے بال بچوں کی ضروریات کیسے پوری کریں گے؟

انہوں نے کہا کہ ’صحافت پر اس سے بڑا دباؤ اور کوئی نہیں ہو سکتا کہ ایک ادارے کے 2300 ملازمین کی تنخواہیں روک دی جائیں‘۔

پاکستان میں صحافیوں کو تنخواہیں وقت پر نہ ملنا کوئی نئی بات نہیں۔ اکثر صحافی اس پر احتجاج تو کرتے ہیں۔ لیکن، امین یوسف کے بقول ’وہ نیوز چینل جو دنیا بھر کی خبریں نشر کرتے ہیں، صحافیوں کے احتجاج کو کوریج نہیں دیتے‘۔

امین یوسف نے کہا کہ پی ایف یو جے جلد ہی صحافیوں کی تنخواہوں کے معاملے پر اعلیٰ عدالت میں استدعا دائر کرے گی۔