امریکہ: زیکا وائرس سے چھوٹے سر والے بچے پیدا ہونے کی تصدیق

برازیل میں چھوٹے سر والے بچوں کی مائیں ایک اسپتال میں۔

یہ پہلا موقع ہے کہ اس وائرس کا چھوٹے سر والے بچوں کی پیدائش سے تعلق سائنسی طور پر ثابت ہوا ہے اور پہلی مرتبہ ہی یہ بات سامنے آئی ہے کہ مخصوص مچھروں کے کاٹنے سے پیدائشی نقائص پیدا ہو سکتے ہے۔

امریکہ میں بیماریوں سے بچاؤ کے محکمہ سی ڈی سی کے ڈائریکٹر ٹام فریڈن نے تصدیق کی ہے کہ زیکا وائرس چھوٹے سر والے بچے پیدا ہونے کا سبب ہے۔

ایٹلانٹا میں سی ڈی سی کے ہیڈ کوارٹر میں ایک نیوز کانفرنس سے خطاب میں انہوں نے کہا کہ ان کا محکمہ اس بات پر مزید تحقیقات کر رہا ہے کہ زیکا وائرس کے باعث پیدا ہونے والے چھوٹے سر والے بچوں میں دیگر دماغی اور نشونما کے کیا مسائل ہو سکتے ہیں۔

نئی تحقیق کی مصنف ڈاکٹر سونیا اے راسموسن نے کہا کہ چھوٹا سر زیکا وائرس کا صرف ایک نتیجہ ہو سکتا ہے اور اس وائرس سے متاثرہ ماں کے ہاں ہونے والے بظاہر صحتمند بچے پر بھی اس کے اثرات ہو سکتے ہیں۔

اس وائرس سے متاثرہ بچوں کا سر اور دماغ پیدائش کے وقت غیر معمولی طور پر چھوٹا ہوتا ہے اور فروری میں عالمی ادارہ صحت کی ڈائریکٹر مارگریٹ چن نے کہا تھا کہ شبہ ہے کہ اس بیماری کا تعلق زیکا وائرس سے ہے۔

یہ پہلا موقع ہے کہ اس وائرس کا چھوٹے سر والے بچوں کی پیدائش سے تعلق سائنسی طور پر ثابت ہوا ہے اور پہلی مرتبہ ہی یہ بات سامنے آئی ہے کہ مچھروں سے پھیلنے والی یہ بیماری پیدائشی نقائص کا سبب بن سکتی ہے۔

اس مطالعے میں شریک سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ اب اس سے بچنے کے لیے تدابیر پر توجہ دی جائے گی، اس کے انسداد کے لیے ویکسین پر تحقیق کی جائے گی اور لوگوں کو زیکا کے خطرات کے بارے میں آگہی دی جائے گی۔

اس سال کے اوائل میں عالمی ادارہ صحت نے زیکا وائرس کو عالمی سطح پر عوامی صحت کے لیے ایک ہنگامی خطرہ قرار دے دیا تھا اور کہا تھا کہ اس سال کے آخر تک اس سے 40 لاکھ تک افراد متاثر ہو سکتے ہیں۔

دنیا کے 24 ممالک نے جنوری کے آخر تک زیکا کے کیسوں کی تصدیق کی تھی جن کی اکثریت وسطی اور جنوبی امریکہ میں واقع ہے۔

جنوبی امریکہ کے ملک برازیل میں اس وائرس سے خاصی تشویش پیدا ہوئی تھی۔ برازیل میں گزشتہ اکتوبر سے فروری تک 4000 چھوٹے سر کے بچوں کی پیدائش کی اطلاع موصول ہوئی جبکہ 2014 میں یہ تعداد 150 تھی۔