عدلیہ اور حکومت کے درمیان کوئی تصادم نہیں ہو گا، چیف جسٹس

عدلیہ اور حکومت کے درمیان کوئی تصادم نہیں ہو گا، چیف جسٹس

ایک ایسے وقت پر جب ملک کے سیاسی حلقوں میں عدلیہ اور حکومت کے درمیان این آر او کے معاملے پر ممکنہ تصادم کی قیاس آرائیاں زور پکڑ رہی تھیں چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری نے اسے خارج ازامکان قرار دیا ہے۔

جمعرات کے روز سپریم کورٹ میں سرکاری ملازمین کی ترقی سے متعلق ایک کیس کی سماعت کے دوران چیف جسٹس افتخار چوہدری نے کہا کہ عدلیہ جمہوریت اور پارلیمان نظام کا تحفظ چاہتی ہے جس کے لیے پاکستان کی عوام نے کڑی جدوجہد کی ہے۔

چیف جسٹس کا یہ بیان ایک ایسے وقت پر سامنے آیا ہے جب ایک روز قبل وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی نے بھی پارلیمان میں خطاب کرتے ہوئے عدلیہ اور مقننہ کے درمیان تصادم کے امکان کو مسترد کیا تھا اور کہا تھا کہ ریاست کے یہ دونوں ستون اپنے اپنے دائرہ اختیار میں رہ کر کام کر رہے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ حکومت نے پہلے ہی این آر او کے خلاف سپریم کورٹ کے فیصلے پر عمل درآمد شروع کر دیا ہے تاہم وزیر اعظم نے یہ بھی واضح کیا کہ صدر آصف علی زرداری کو بحر حال آئین کے تحت استثنا حاصل ہے۔ وزیر اعظم نے کہا کہ اگر پارلیمان اس استثنا کوختم کر دیتی ہے تو حکومت سوئس مقدمات دوبارہ کھول دے گی۔

ان کا کہنا تھا کہ صدر کو استثنا کسی ایک فرد نے نہیں بلکہ پاکستان کے آئین نے دیا ہے اور اس کو برقرار رکھنے یا ختم کرنے کا اختیار بھی پارلیمان کے پاس ہے۔

سپریم کورٹ نے این آر او سے مستفید ہونے والے عوامل کو ملکی مفاد کے خلاف قرار دیا تھا لہذا اپوزیشن جماعتوں کی طرف سے صدر پر دباؤ ہے کہ انھیں مستعفی ہو جانا چاہیئے کیونکہ وہ این آر او سے فائدہ اٹھانے والوں میں شامل ہیں۔


این آراو کے خلاف فیصلے میں صدر زرداری کے علاوہ تقریباََ آٹھ ہزار افراد کو کرپشن اور فوجداری مقدمات میں دی گئی معافی اگرچہ ختم کر دی گئی ہے تاہم وزیر اعظم گیلانی کا کہنا تھا کہ آئین کی رو سے صدر کو حاصل استثنا برقرار ہے۔

دوسری طرف وزیر اعظم کے اس دعوے پر قانونی ماہرین کی رائے منقسم ہے۔ بعض کا کہنا ہے کہ صدر مقدمات سے مستثنیٰ ہیں جب کہ بعض کا خیال اس کے برعکس ہے۔

حکومتی عہدے دار بہر حال صدر زرداری کے استعفے کے مطالبوں کو مسترد کرتے ہیں کیونکہ ان کا کہنا ہے کہ صدر کے خلاف نہ تو پارلیمان میں کوئی مواخذے کی تحریک ہے اور نہ ہی حکمران پارٹی میں ان کے خلاف کوئی بغاوت موجود ہے۔