چین کا آزادانہ تجارت سے متعلق پاکستان کے تحفظات دور کرنے پر اتفاق

گوادر بندرگاہ کی فائل فوٹو

چین نے آزادانہ تجارت سے متعلق اسلام آباد کے تحفظات کو دور کرنے پر اتفاق کیا ہے۔

دنوں ملکوں کے درمیان یہ اتفاق رائے پاکستانی اور چینی حکام کے چین میں ہونے والے ایک اجلاس کے بعد سامنے آیا ہے۔

پاکستان کی سیکرٹری تجارت یونس ڈھاگہ کی سربراہی میں پاکستانی وفد نے اس جلاس میں شرکت کی تھی۔ اجلاس کے بعد پاکستان کی وزارت تجارت کی طرف سے جاری ہونے والے ایک بیان کے مطابق آزادنہ تحارت کے سمجھوتے سے متعلق پاکستان کے تحفظات دور کرنے کے لیے دونوں ملک مجوزہ ترامیم کو حتمی شکل دے رہے ہیں۔

پاکستان اور چین کے درمیان آزادنہ تجارت کے سمجھوتے کے باوجود پاکستان کے چین کے ساتھ تجارتی خسارے میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے جس پر پاکستان کی تاجر برداری کی طرف سے شدید تحفظات کا اظہار کیا جاتا رہا ہے۔

پاکستان کی تاجر برداری کا مطالبہ رہا ہے کہ چین پاکستانی برآمدی اشیا پر کسٹم محصولات کی مد میں وہی رعایت دے جو وہ مشرقی ایشیائی ملکوں کو دے رہا ہے۔

اقتصادی امور کے تجزیہ کار عابد سلہری نے کہا کہ اس کی وجہ سے چین کے ساتھ آزادنہ تجارتی سمجھوتے کے باوجود پاکستان اس کا مناسب طور پر فائدہ نہیں اٹھا سکا ہے۔

" اگرچہ پاکستان نے چین کے ساتھ آزادانہ تجارت کا سمجھوتا کر لیا تھا لیکن مشرقی ایشیائی ملکوں کے لیے چین کی طرف سے دی گئے ٹیرف(محصولات ) کی رعایتوں کی شرح پاکستانی اشیا پر عائد ٹیرف سے بہت کم ہے اور اسی وجہ سے بعض حلقے ان خدشات کا اظہار کر رہے تھے کہ چین پاکستان اقتصادی راہداری منصوبوں کی وجہ سے پاکستان کے تجارتی خسارے میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔"

حالیہ برسوں میں پاکستان کے چین کے ساتھ تجارتی خسارے میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے اور گزشتہ سال یہ خسارہ 12 ارب ڈالر سے تجاوز کر گیا۔

عابد سلہری نے کہا کہ چین کی طرف سے آزادنہ تجارت سے متعلق پاکستان کے تحفظات کو دور کرنے پر اتفاق کرنے کی وجہ چین پاکستان اقصادی راہداری کے منصوبے ہیں۔

" کچھ عرصہ پہلے تک جب چین سے ٹیرف کو کم کرنے کا مطالبہ کیا جاتا تھا تو ان کا ردعمل مثبت نہیں ہوتا تھا اور اگر اب ان کی طرف سے مثبت اشارے آ رہے ہیں تو یقینی طور پر یہ چین پاکستان اقتصادی راہداری منصوبے سامنے رکھتے ہوئے آ رہے ہیں تاکہ چین اور پاکستان کے درمیان اعتماد کے فضا قائم ہو سکے۔"

بعض مبصرین کا کہنا ہے کہ اگر آزادانہ تجارت کے معاہد ے سے متعلق پاکستان کے تحفظات دور کر دیتا ہے تو اس سے چین کے لیے پاکستانی برآمدات میں اضافہ ہو گا۔

پاکستان کے پلاننگ کمیشن کے ڈپٹی چئیرمین سرتاج عزیز نے گزشتہ ماہ تجویز دی تھی کہ چین برآمدات سے متعلق معاملات کا جائزہ لینے کے لیے اپنے ماہرین کی ٹیم پاکستان بھیجے تاکہ چیی تاجروں کو پاکستان میں مشکلات پیش نہ آئیں۔انہوں نے کہا کہ چین پاکستان سے چینی کے علاوہ گوشت، مچھلی، فروٹ اور سزیاں درآمد کر سکتا ہے۔