پاپائے روم کی جنوبی سوڈان، شام میں امن کی اپیل

منگل کو بیت اللحم میں، یروشلم کے لاطینی اسقفِ اعظم، فواد طوال نے نیم شب کی دعائیہ تقریب کی امامت کی، جس میں فلسطینی صدر محمود عباس بھی شریک تھے۔ دیگر شرکاٴمیں یورپی یونین کے اہل کار اور اردن کے معززین شامل تھے
پاپائے روم کی ذمہ داری سنبھالنے کے بعد، ’کرسمس ڈے‘ کے موقعے پر اپنے پہلے خطاب میں پوپ فرینسز نےجنوبی سوڈان اور دنیا بھر کے مصائب زدہ دیگر ممالک میں امن قائم کرنے پر زور دیا ہے۔

ارجنٹینا سے تعلق رکھنے والے ستہتر برس کے پاپائے روم نے بدھ کے دِن سینٹ پیٹرز اسکوائر میں لاکھوں افراد سے خطاب کیا، جو عیسائی مذہب کے متبرک ترین دِن پر خوشیاں منانے کے لیے جمع تھے۔

’شہر کے لیے اور دنیا کے لیے‘ اپنے پہلے دعائیہ کلمات میں، اُنھوں نے جنوبی سوڈان میں سماجی ہم آہنگی پر زور دیا؛ جب کہ، نائجیریا، جمہوریہ کانگو، عراق اور شام کے تنازعات کے حل کے لیے مکالمے پر زور دیا۔

اُن کا کہنا تھے کہ اُنھوں نے اسرائیل اور فلسطینیوں کے مابین امن عمل کے مثبت نتائج کے لیے بھی دعا کی ہے۔


فلسطینی مغربی کنارے کے شہر، بیت اللحم، جو انجیلِ مقدس کے مطابق یسوح مسیح کا مقامِ پیدائش کا درجہ رکھتا ہے، زائرین چوتھی صدی عیسوی میں تعمیر ہونے والی کلیسا کے اندر جمع ہوئے۔ روایات بتاتی ہیں کہ یسوح مسیح وہیں پیدا ہوئے۔ گرجا کی قدیمی راہداریوں کو موم بتیوں سے روشن کیا گیا تھا، جب کہ ماحول دعائیں مانگنے والوں کی آوازوں سے لبریز تھا۔

منگل کو بیت اللحم میں، یروشلم کے لاطینی اسقفِ اعظم، فواد طوال نے نیم شب کی دعائیہ تقریب کی امامت کی، جس میں فلسطینی صدر محمود عباس بھی شریک تھے۔

دیگر شرکاٴمیں یورپی یونین کے اہل کار اور اردن کے معززین شامل تھے۔


بیت اللحم کی ایک تہائی آبادی عیسائیوں پر مشتمل ہے، جب کہ 25000باسیوں میں سے زیادہ تر اپنی شناخت مسلمان کے طور پر کراتے ہیں۔ سالانہ خیرسگالی کے طور پر، اسرائیل نے غزہ کی چھوٹی سی عیسائی برادری کے 500 ارکان کو اسرائیل سے گزر کر بیت اللحم جانے کی اجازت دی، تاکہ وہ جشن منانے میں شریک ہوں۔

دریں اثناٴ، امریکی صدر براک اوباما نے ریڈیو اور انٹرنیٹ پر جاری ہونے والے اپنے بیان میں امریکی فوجیوں اور فوجی خاندانوں کی خدمات اور قربانی کے جذبے کو سراہا ہے۔

اُنھوں نے اس بات کی طرف توجہ دلائی ہے کہ عراق اور افغانستان کی جنگوں کے اختتام پر چند ہی فوجی مرد اور خواتین کی تعیناتی باقی رہ گئی ہے، اور یوں، گذشتہ ایک عشرے کے دوران فوجیوں کی یہ کم ترین تعداد ہے جو میدانِ جنگ میں اب بھی تعینات ہیں۔

صدر جمعے کے روز اِس پیغام کی ریکارڈنگ کے بعد، دو ہفتے کی چھٹیوں پر اپنی خاندانی ریاست، ہوائی روانہ ہوگئے۔