شمالی کوریا جوہری ہتھیار تلف کرنے میں سنجیدہ لگتا ہے: سی آئی اے

گزشتہ سال کی ایک تصویر جس میں کم جونگ ان نئے بیلسٹک میزائل کا تجربہ دیکھ رہے ہیں۔ (فائل فوٹو)

سی آئی اے کی ڈائریکٹر جینا ہیسپل نے کہا کہ بظاہر لگتا ہے کہ کم جونگ ان شمالی کوریا کے عوام کی معاشی مشکلات کا ادراک رکھتے ہیں۔

امریکہ کے خفیہ ادارے 'سینٹرل انٹیلی جنس ایجنسی' (سی آئی اے) نے کہا ہے کہ اسے ایسے اشارے ملے ہیں جن سے لگتا ہے کہ شمالی کوریا اپنے جوہری ہتھیار تلف کرنے پر واقعی آمادہ ہے۔

پیر کو ریاست کینٹکی کی ایک یونیورسٹی میں خطاب کرتے ہوئے سی آئی اے کی ڈائریکٹر جینا ہیسپل نے کہا کہ اس بات کے شواہد ملے ہیں کہ کم جونگ ان شمالی کوریا کے عوام کی معاشی مشکلات کا ادراک رکھتے ہیں اور صورتِ حال میں بہتری کے لیے اقدامات کرنے کے خواہاں ہیں۔

رواں سال مئی میں سی آئی اے کی سربراہی سنبھالنے کے بعد جینا ہیسپل کا کسی عوامی تقریب سے یہ پہلا خطاب تھا۔

امریکی انٹیلی جنس حکام کم جونگ ان اور ان کے نمائندوں کی جانب سے جوہری ہتھیار تلف کرنے کے وعدوں اور یقین دہانیوں پر شکوک و شبہات ظاہر کرتے رہے ہیں اوریہ پہلا موقع ہے کہ امریکی انٹیلی جنس کے کسی اعلیٰ عہدیدار نے ان وعدوں کے وفا ہونے کی امید ظاہر کی ہے۔

سی آئی اے کی ڈائریکٹر جینا ہیسپل

اپنے خطاب میں جینا ہیسپل نے امریکہ کے اس دیرینہ موقف کو دہرایا کہ شمالی کوریا کی کمیونسٹ حکومت اپنے ملک کی جوہری صلاحیت کو اپنے اقتدار کے لیے ضروری خیال کرتی ہے اور اسے اپنے حق میں ایک ہتھیار کے طور پر استعمال کرتی آئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ پیانگ یانگ حکومت کو اس بارے میں اپنا موقف تبدیل کرنے پر آمادہ کرنا ایک مشکل کام ہوگا کیوں کہ ان کے بقول اس نے یہ ہتھیار برسوں کی محنت سے تیار کیے ہیں اور وہ اتنی آسانی سے انہیں ترک کرنے پر راضی نہیں ہوگی۔

لیکن سی آئی اے سربراہ کے بقول امریکہ اب شمالی کوریا کو اس بارے میں قائل کرنے کی کہیں بہتر پوزیشن پر ہے جس کی وجہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور کم جونگ ان کے درمیان براہِ راست رابطوں اور تعلق کا استوار ہونا ہے۔

گو کہ صدر ٹرمپ رواں سال جون میں کم جونگ ان سے اپنی ملاقات کے بعد سے کئی بار شمالی کوریا کے ساتھ تعلقات میں بہتری اور جزیرہ نما کوریا کو جوہری ہتھیاروں سے پاک کرنے کے ہدف کے بارے میں امید افزا بیانات دے چکے ہیں، امریکی انٹیلی جنس حکام تاحال اس بارے میں محتاط ہیں۔

رواں ماہ کے آغاز پر امریکہ کے نیشنل انٹیلی ڈائریکٹر ڈین کوٹس نے واشنگٹن میں ایک کانفرنس سے خطاب میں کہا تھا کہ اب تک کی دستیاب معلومات کی بنیاد پر امریکہ کا تجزیہ یہی ہے کہ شمالی کوریا کے جوہری عزائم تبدیل نہیں ہوئے اور اس نے اس حوالے سے جو چند اقدامات کیے ہیں وہ محض نمائشی نوعیت کے ہیں۔