موسمیاتی تبدیلی کا سمجھوتا، ریپبلیکن رہنماؤں کی اوباما پر تنقید

فائل

امریکی سینیٹ میں ریپبلیکن پارٹی کے متوقع نئے قائد، مِچ مکونیل نے کہا ہے کہ اُنھیں مسٹر اوباما کی طرف سے کیے جانے والے سمجھوتے پر افسوس ہے

امریکہ میں، ریپبلیکن پارٹی کے اہم رہنماؤں نے صدر براک اوباما اور چین کے صدر ژی جِن پنگ کی طرف سے دستخط ہونے والے موسمیاتی تبدیلی کے معاہدے کی مذمت کی ہے، جس کے تحت دونوں ممالک، جو دنیا میں کاربن گیس کے اخراج کے باعث سب سے بڑے ملک ہیں، اس آلودگی پر کنٹرول کے اقدام کرنے کے پابند ہوں گے۔

بدھ کو ہونے والے سمجھوتے کے تحت، مسٹر اوباما نے اِس بات کا عزم کیا کہ 2025ء تک امریکہ نقصاندہ آلودگی کےاخراج کو 28 فی صد تک کم کرے گا، جس کے لیے امریکہ کو اپنی کوششیں دوگنہ کرنا پڑیں گی؛ جب کہ مسٹر ژی نے کہا کہ چین کی طرف سے کاربن ڈائی آکسائیڈ کا اخراج 2030ء تک اپنی انتہا کو پہنچ جائے گا۔

امریکی سینیٹ میں ریپبلیکن پارٹی کے متوقع نئے قائد، مِچ مکونیل نے کہا ہے کہ اُنھیں مسٹر اوباما کی طرف سے کیے جانے والے سمجھوتے پر افسوس ہے، جن کا تعلق ڈیموکریٹ پارٹی سے ہے اور جن کی پالیسیوں سے ریپبلیکن قانون ساز اکثر و بیشتر اختلاف کرتے آئے ہیں۔

مکونیل کے بقول، ’مسئلہ یہ ہے کہ صدر اِس بات کا عندیہ دے رہے ہیں کہ وہ اپنی ضد سے نہیں ہٹیں گے۔ میں اس معاہدے پر بہت افسردہ ہوں۔ لگتا ہے کہ اُنھوں نے اپنے حالیہ دورے میں چینی لیڈر کے ساتھ معاہدہ کیا ہے؛ جس میں، جہاں تک میں نے معاہدے پر نظر ڈالی ہے، چین اگلے 16 برس تک کچھ بھی نہیں کرے گا، جب کہ کاربن کے اخراج کے ضابطے میری ریاست اور ملک بھر میں تباہ کاری کے باعث بنے ہوئے ہیں‘۔

ریپبلیکن رہنما اور ایوانِ نمائندگان کے اسپیکر، جان بینر نے کہا ہے کہ ’موسمیاتی تبدیلی سے متعلق سمجھوتے سے ظاہر ہوتا ہے کہ مسٹر اوباما زورگار کے مواقع کم کرنے کی پالیسیوں کو تیز تر کر رہے ہیں، اِس کی پرواہ کیے بغیر کہ اِن کے تباہ کُن اثرات مرتب ہوں گے‘۔

سمجھوتے پر دستخط کرنے کے بعد، بیجنگ میں امریکی اور چینی رہنماؤں نے، ریڈ وائین کے گلاس بلند کرکے ٹوسٹ پیش کیا؛ جب کہ مسٹر اوباما نے کہا کہ اس سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ ملک اپنے اہم مسائل کا حل ڈھونڈ سکتے ہیں۔