بلوچستان کے حالات پر امریکی کانگریس کی کمیٹی میں سماعت

بلوچستان کے حالات پر امریکی کانگریس کی کمیٹی میں سماعت

ایک بہت اہم بیان کانگریس مین روہراباکر نے یہ دیا کہ امریکہ کو اس وقت تک کوئی سنجیدگی سے نہیں لے گا جب تک اس کی پالیسی ہر ایک کے لیے یکساں نہیں ہوگی اس لیے جہاں بلوچستان کے لوگوں کو انسانی حقوق حاصل ہیں وہیں کشمیر کے عوام کو بھی حق خود ارادیت حاصل ہے۔

امریکی کانگریس میں پاکستان کاکس کے رکن، کیلی فورنیا سے تعلق رکھنے والے کانگریس مین، ڈینا روہرا باکر کی سربراہی میں امریکی کانگریس کی ذیلی کمیٹی برائے امور خارجہ نے بدھ کو بلوچستان کے حالات اور وہاں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر ایک سماعت رکھی جس میں ہیومن رائٹس واچ کے پاکستان ڈائریکٹر علی دایان حسن کے علاوہ ایمنسٹی انٹرنیشنل کے نمائندے اور جنوبی ایشیاء پر ماہرین شامل تھے۔

کانگریس مین روہرا باکر کے مطابق بلوچستان ایک ایسے خطے میں واقع ہے جس کا استحکام دنیا بھر کے لیے بے حد اہم ہے چنانچہ اس سماعت کا مقصد تھا علاقے کے مسائل کو سمجھنا تاکہ مستقبل میں پالیسی سازی میں مدد مل سکے۔

بلوچستان سے لاپتہ ہونے والے افراد کے اہل خانہ (فائل فوٹو)


سماعت کے دوران خاص طور پر بلوچستان میں لوگوں کے اغوا، ’’ٹارچر‘‘ کرنے یا غائب‘‘ کر دینے کے واقعات اور ٹارگٹ کلنگ کا ذکر رہا۔ جس کا الزام تقریبًا تمام ماہرین اور انسانی حقوق کے نمائندوں نے پاکستان کی سیکورٹی فورسز پر لگایا۔ جن کے بارے میں کہا گیا کہ وہ بات چیت کے بجائے طاقت کے زور پر مسائل حل کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔

لیکن یہ بھی کہا گیا کہ بلوچ قوم پرست گروہ بھی جواباً ٹارگٹ کلنگ اور تشدد کے واقعات کے ذمّہ دار ہیں۔ اور بلوچستان میں کام کرنے والے دیگر صوبوں کے لوگوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔

ایک بہت اہم بیان کانگریس مین روہراباکر نے یہ دیا کہ امریکہ کو اس وقت تک کوئی سنجیدگی سے نہیں لے گا جب تک اس کی پالیسی ہر ایک کے لیے یکساں نہیں ہوگی اس لیے جہاں بلوچستان کے لوگوں کو انسانی حقوق حاصل ہیں وہیں کشمیر کے عوام کو بھی حق خود ارادیت حاصل ہے۔

یہ بات بھی قابل غور ہے کہ موجودہ امریکی انتظامیہ کی طرف سے کوئی اس سماعت میں شریک نہیں تھا اور اسٹیٹ ڈیپارٹمنٹ کی ترجمان وکٹوریہ نیولینڈ کے مطابق پاکستان کے اندر مختلف پارٹیوں کو مل کر اس مسئلے کو پر امن طریقے سے حل کرنا چاہیے۔