امریکہ نے ایتھوپیا میں اپنا ڈرون اڈہ بند کر دیا

فائل

سفارتخانے کی پریس اہل کار، کیتھرین ڈائیوپ نے ایک ای میل میں کہا ہے کہ امریکہ اور اتھیوپیا ایک مشترکہ معاہدے پر پہنچے ہیں، جس کے تحت اربامنچ میں اب امریکی فوجیوں کی ضرورت نہیں رہی

امریکی حکومت نے جنوبی اتھیوپیا میں انسداد دہشت گردی کے لئے قائم ڈرون کے ایک اڈے کو بند کر دیا ہے۔

عدیس ابابا میں امریکی سفارتخانے نے سوموار کو ’وائس آف امریکہ‘ کو بتایا کہ اربا منج ٹاؤن میں واقع اس ڈرون اڈے میں اب کوئی امریکی فوجی تعینات نہیں ہوگا۔

سفارتخانے کی پریس افسر کیتھرین ڈائیوپ نے ایک ای میل میں کہا ہے کہ امریکہ اور اتھیوپیا ایک مشترکہ معاہدے پر پہنچے ہیں جس کے تحت اربا منچ میں اب امریکی فوجیوں کی ضرورت نہیں رہی۔

اتھیوپیا میں یہ امریکی اڈہ 2011ء میں قائم کیا گیا تھا جہاں سےاسلامی انتہاء پسند گروپ، الشباب کے مرکز صومالیہ پر ڈرون حملے شروع کئے گئے تھے۔

’واشنگٹن پوسٹ‘ کی ایک رپورٹ کے مطابق، اس وقت جب ڈرون کو ہیل فائر میزائل اور سٹیلائٹ گائڈڈ بم سے مسلح کیا جاسکتا ہے، امریکی محکمہ دفاع کا کہنا ہے کہ طیارے غیر مسلح ہوں گے اور صرف نگرانی کے لئے استعمال کئے جائیں گے۔

سفارتخانے کے ترجمان ڈائیوپ کا کہنا ہے کہ اربا منچ میں امریکی موجودگی کبھی مستقل نہیں رہی۔

امریکی افواج سیشیلس جزیرے میں واقع اس ڈرون اڈے سمیت مشرقی افریقہ کے اطراف میں واقع دیگر ڈرون اڈوں کو استعمال کرتے ہیں۔

امریکی ڈرون حملوں میں الشباب کے سربراہ احمد علی گوڈین سمیت متعدد رہنما ہلاک ہوچکے ہیں۔