ایکواڈور میں سڑکوں پر لاشیں کیوں پڑی ہیں؟

ڈارون کیسٹلو کے والد 31 مارچ کو ایکواڈور کے شہر گوایاکیل میں کرونا وائرس سے انتقال کر گئے تھے۔ ڈارون لاش لینے مردہ خانے پہنچے تو باڈی بیگ پر ان کے والد کا نام تھا لیکن اندر کسی اور شخص کی لاش تھی۔

ڈارون کے شکایت کرنے پر انتظامیہ نے انھیں پیشکش کی کہ وہ مردہ خانے میں موجود لاشوں کے باڈی بیگ کھولیں اور والد کو پہچان لیں۔ وہاں 170 لاشیں موجود تھیں۔ وائرس لگنے کے خدشے پر ڈارون نے ایسا کرنے سے انکار کر دیا۔

اس بات کو تین ہفتے ہو چکے ہیں لیکن ڈارون کو ابھی تک والد کی لاش نہیں مل سکی۔

ڈارون اسپتال انتظامیہ کو الزام نہیں دیتے۔ لاشیں صرف مردہ خانے میں نہیں، اسپتال کے کمروں میں، برآمدوں میں، حد یہ کہ اسپتال کے دروازے پر پڑی ہوں تو کسے الزام دیا جائے؟

براعظم جنوبی امریکہ کے ملک ایکواڈور میں سرکاری حکام کے مطابق پیر تک کرونا وائرس سے 474 اموات ہوئی تھیں۔ لیکن ان میں وہ ہزاروں افراد شامل نہیں جو گھر پر انتقال کر گئے۔

خبر ایجنسیوں نے ایسی متعدد تصاویر جاری کی ہیں جن میں سفید چادروں میں لپٹی ہوئی لاشیں سڑکوں پر پڑی ہیں۔

گوایاکیل ایکواڈور کے صوبے گوایاس کا شہر ہے۔ گوایاس کی مقامی حکومت نے بتایا ہے کہ عام طور پر ایک مہینے میں دو ہزار اموات ہوتی ہیں، لیکن مارچ سے اب تک ساڑھے 14 ہزار اموات ہو چکی ہیں۔ مرنے والوں کی تدفین میں اتنی تاخیر ہو رہی ہے کہ لوگوں کو اپنے پیاروں کی لاشیں کئی کئی دن گھر میں رکھنا پڑ رہی ہیں۔

گوایاکیل کرونا وائرس سے اس بری طرح متاثر ہوا ہے کہ وہاں انتظامیہ نے شہریوں میں کارڈ بورڈ کے ہزاروں تابوت تقسیم کیے ہیں اور ان خاندانوں کے لیے علیحدہ ہیلپ لائن شروع کی ہے جن کے پیارے گھر پر چل بسے ہیں۔ کرونا وائرس سے مرنے والوں کے لیے دو قبرستانوں میں توسیع کی گئی ہے۔

ایکواڈور میں اب تک کرونا وائرس کے 10 ہزار مریضوں کی تصدیق ہوئی ہے۔ لیکن اموات کی تعداد سے اندازہ ہوتا ہے کہ ٹیسٹ کم ہونے کی وجہ سے بڑی تعداد میں مریضوں کا پتا نہیں چل رہا۔

ایکواڈور کے اسپین سے گہرے تعلقات ہیں جو یورپ میں کرونا وائرس کے بدترین حملے کے شکار ملکوں میں شامل ہے۔ ایکواڈور میں کرونا وائرس کی پہلی مریض بھی ایک ایسی ہی خاتون تھیں جو اسپین سے واپس لوٹی تھیں۔

ایکواڈور کے نائب صدر اوٹو سونے نولزنر نے وبا سے نمٹنے میں سستی کا مظاہرہ کرنے پر اس ماہ کے آغاز میں عوام سے معافی مانگی تھی۔ انھوں نے کہا تھا کہ انھیں ایسی صورت حال کی تصاویر دیکھنے کو مل رہی ہیں جو پیش نہیں آنی چاہیے تھی۔ عوام کے خادم ہونے کی حیثیت سے وہ اس پر معافی چاہتے ہیں۔