حسنی مبارک کے مقدمے کی دوبارہ سماعت کا حکم

قاہر ہ کی عدالت کی طرف سے منگل کو سنائے جانے والے فیصلے کےتحت حسنی مبارک کو سنائی گئی بقیہ سزا بھی ختم ہو گئی ہے۔

مصر کی ایک عدالت نے سابق صدر حسنی مبارک اور ان کے دوبیٹوں پر بدعنوانی کے اس مقدمے کے دوبارہ سماعت کا حکم دیا ہے جس میں انہیں گزشتہ برس کئی سال قید کی سزا سنائی گئی تھی۔

قاہر ہ کی عدالت کی طرف سے منگل کو سنائے جانے والے فیصلے کےتحت حسنی مبارک کو سنائی گئی بقیہ سزا بھی ختم ہو گئی ہے۔ لیکن عدالت نے یہ نہیں کہا کہ دوبارہ مقدمے کی سماعت شروع ہونے سے پہلے انہیں ضمانت پر رہا کر دیا جائے گا یا نہیں۔

ایک ذیلی عدالت نے مئی میں انھیں ایک کروڑ 70 لاکھ ڈالر کے فنڈز کی خورد برد کا مرتکب قرار دیا تھا جو صدراتی محل کی تزئین کے لیے استعمال ہونے تھے۔

86 سالہ مبارک ایک فوجی اسپتال میں تین سال کی قید کاٹ رہے ہیں جبکہ ان کے بیٹوں علیٰ اور گمال کو چار سال کی سزا سنائی گئی تھی۔

سابق صدر کو ایک اور مقدمے کی دوبارہ سماعت کا سامنا ہے جس میں ان پر 2011 کی تحریک کے دوران ہلاکتوں کا ذمہ دار ہونے کا الزام ہے۔ اس تحریک کے نتیجے میں انھیں اقتدار سے علیحدہ ہونا پڑا تھا۔

ان کو پہلے اس مقدمے میں مجرم ٹھہراتے ہوئے عمر قید کی سزا سنائی گئ تھی تاہم بعد میں نومبر میں اس فیصلے کو کالعدم قرار دیتے ہوئے عدالت نے ان کے خلاف الزمات کو ختم کر دیا۔ استغاثہ نے عدالت کے اس فیصلے کے خلاف اپیل کر رکھی ہے۔