یورپ: اسپین میں حاملہ عورت میں زکا وائرس کی تصدیق

اسپین کی وزارت صحت کے مطابق حاملہ خاتون حال ہی میں کولمبیا سے واپس اسپین لوٹی ہے۔ خیال ہے کہ وہ وہاں پر اس وائرس سے متاثر ہوئی تھی۔

اسپین نے ایک حاملہ خاتون میں زکا وائرس کی تصدیق کر دی ہے، یہ یورپ میں اس طرح کا پہلا کیس ہے۔

اسپین کی وزارت صحت کے مطابق حاملہ خاتون حال ہی میں کولمبیا سے واپس اسپین لوٹی ہے۔ خیال ہے کہ وہ وہاں پر اس وائرس سے متاثر ہوئی تھی۔

تفصیلات کے مطابق خاتون کا تعلق اسپین کے شمال مشرقی شہر کاتالونیہ سے ہے۔ خاتون کی طبی جانچ کے بعد انھیں طبی معائنہ کے تحت رکھا گیا ہے لیکن خاتون کی صحت اچھی بتائی گئی ہے۔

خیال کیا جاتا ہے کہ خاتون کے حمل کی یہ دوسری سہ ماہی ہے جبکہ صحت کے حکام کا کہنا ہے کہ خاتون کا معاملہ اسپین میں زکا وائرس کے سات تصدیق شدہ کیسوں میں سے ایک ہے۔

مچھر سے پیدا ہونے والے وائرس کو ہزاروں نوزائیدہ بچوں میں پیدائشی نقائص کا باعث بننے کا الزام دیا جا رہا ہے۔

اس انفیکشن کا زیادہ خطرہ بچے کو ہے، جس میں ماں سے یہ وائرس منتقل ہوتا ہے اور ایک غیر معمولی اعصابی بیماری 'مائیکروکیفیلی' کا سبب بنتا ہے۔

اس وائرس سے متاثرہ ہزاروں خواتین نے چھوٹے سر یا پسماندہ دماغ والے بچوں کو جنم دیا ہے۔ یہ وائرس لاطینی امریکی خطے میں تیزی سے پھیل رہا ہے۔

عالمی ادارہ صحت نے مچھر سے پیدا ہونے والے وائرس سے پیدائشی نقائص کی بیماری کو عالمی صحت کے لیے خطرہ قرار دیا ہے۔

اگرچہ زکا وائرس اور ان کی حالت کے درمیان تعلق کی تصدیق نہیں ہوئی ہے اور اب تک حمل کے مختلف مراحل میں درپیش خطرات نامعلوم ہیں۔

کولمبیا، جنوبی امریکہ اور کریبین ان 23 ملکوں اور خطوں میں سے ایک ہیں جو اس وائرس سے متاثر ہوئے ہیں۔

برازیل جہاں پچھلے سال زکا وائرس کا پہلا کیس سامنے آیا تھا سب سے زیادہ متاثر ہوا ہے جہاں اکتوبر سے 404 تصدیق شدہ کیس آئے ہیں اور کئی ہزار حاملہ خواتین میں چھوٹے سر کے بچے ہونے کا شبہ ظاہر کیا گیا ہے۔

جمعرات کو عالمی ادارہ صحت نے ممالک کو تاکید کی ہے کہ وہ ایسے لوگوں سے خون کے عطیات وصول نا کریں جو حال ہی میں متاثرہ ممالک کا دورہ کر کے لوٹے ہیں۔

اس بیماری کے بارے میں پہلے خیال کیا جا رہا تھا کہ یہ صرف مچھر سے پھیلتی ہے اور انسان سے انسان کو نہیں لگتی ہے۔

لیکن حال ہی میں برازیل میں ایک کیس منظر عام پر آیا ہے جس میں یہ وائرس خون کی منتقلی کے ذریعے دوسرے شخص میں منتقل ہوا تھا۔