رسائی کے لنکس

logo-print

امریکہ میں زکا وائرس کے جنسی طور پر منتقل ہونے کی تصدیق


ڈیلس کاؤنٹی کے حکام کا کہنا ہے کہ زکا وائرس سے متاثرہ شخص کے ساتھ جنسی تعلق کے بعد مریض میں یہ وائرس منتقل ہو گیا۔ متاثرہ شخص ایک ایسے ملک سے لوٹا تھا جہاں یہ وائرس موجود ہے۔

امریکہ کی جنوب مغربی ریاست ٹیکساس میں زکا وائرس کا پہلا کیس سامنے آیا ہے جس میں وائرس ایک شخص سے دوسرے شخص میں اختلاط کے نتیجے میں منتقل ہوا۔

ڈیلس کاؤنٹی کے حکام کا کہنا ہے کہ زکا وائرس سے متاثرہ شخص کے ساتھ جنسی تعلق کے بعد مریض میں یہ وائرس منتقل ہو گیا۔ متاثرہ شخص ایک ایسے ملک سے لوٹا تھا جہاں یہ وائرس موجود ہے۔

ڈیلس کاؤنٹی نے بعد میں منگل کو ٹوئیٹر پر ایک پیغام میں کہا کہ متاثرہ شخص نے ونیزویلا کا سفر کیا تھا۔

امریکہ کے بیماریوں سے بچاؤ کے وفاقی مرکز ’سی ڈی سی‘ نے ٹیکساس میں سامنے آنے والے کیس کی تصدیق کی ہے مگر کہا ہے کہ اس نے ابھی اس کی تحقیقات نہیں کی۔

وائس آف امریکہ کو ایک ای میل میں سی ڈی سی نے کہا کہ اس نے ’’لیبارٹری ٹیسٹ کے ذریعے امریکہ میں ایک ایسے شہری کو وائرس انفیکشن کی تصدیق کی ہے جس نے کسی متاثرہ ملک کا سفر نہیں کیا تھا۔‘‘

سی ڈی سی نے کہا کہ ان کیسوں میں ماں کے پیٹ میں بچے کو کوئی خطرہ نہیں۔

منگل کو برازیل کی صدر ڈلما روسیف نے منگل کو قانون سازوں کو بتایا کہ ان کی حکومت مچھروں سے جنگ میں کوئی کسر نہیں چھوڑے گی۔ ماہرین کا خیال ہے کہ وائرس مچھروں سے پھیلتا ہے جس سے حاملہ عورتوں کو سخت خطرہ ہے۔

ڈلما روسیف نے کہا کہ ’’میری پوری حکومت اس ہنگامی حالت سے نمٹنے کے لیے کام کر رہی ہے۔ اس سلسلے میں فنڈز کی کوئی کمی نہیں ہو گی اور مجھے یقین ہے کہ میں کانگریس کی حمایت پر انحصار کر سکتی ہوں۔ ہم امریکی حکومت اور صدر اوباما جن سے ہم نے بات کی ہے کے ساتھ مل کر زکا وائرس کے انسداد کے لیے ویکسین تیار کرنے پر کام کریں گے۔‘‘

فرانسیسی فارماسوٹیکل کمپنی ’سنوفی‘ نے منگل کو کہا ہے کہ اس نے اس وائرس کا ویکسین تیار کرنے کے لیے تحقیقات شروع کر دی ہیں۔ اس وائرس کا نام یوگنڈا کے ایک جنگل پر رکھا گیا ہے جہاں مچھروں سے پھیلنے والی اس بیماری کا 1947 میں پہلی مرتبہ پتا چلایا گیا۔ اس وقت زکا کا کوئی علاج موجود نہیں۔

زکا وائرس والے مچھر کے کاٹنے سے 80 فیصد افراد میں کوئی علامات ظاہر نہیں ہوتیں مگر یہ حاملہ عورتوں کے لیے خطرناک ہے۔

عالمی ادارہ صحت کے مطابق شبہ ہے کہ یہ وائرس غیر معمولی طور پر چھوٹے سر والے بچوں کی پیدائش کا سبب ہے۔

عالمی ادارہ صحت نے زکا وائرس کو عالمی سطح پر عوامی صحت کے لیے ایک ہنگامی خطرہ قرار دے دیا ہے اور کہا ہے کہ اس سال کے آخر تک اس سے 40 لاکھ تک افراد متاثر ہو سکتے ہیں۔

دنیا کے 24 ممالک نے جنوری کے آخر تک زکا کے کیسوں کی تصدیق کی ہے جن کی اکثریت وسطی اور جنوبی امریکہ میں موجود ہے۔ مگر عالمی سفر کے باعث اس فہرست میں مزید ممالک کا اضافہ ہو سکتا ہے۔

چلی میں منگل کو اس وائرس کا پہلا کیس سامنے آیا جو ایسے شخص میں تھاجس نے باہر کا سفر کیا تھا۔

برازیل میں اس وائرس سے خاصی تشویش پائی جاتی۔ برازیل میں گزشتہ اکتوبر سے اب تک 4000 چھوٹے سر کے بچوں کی پیدائش کی اطلاع موصول ہوئی ہے جبک 2014 میں یہ تعداد 150 تھی۔

برازیل اس سال موسم سرما کے اولمپک کھیلوں کی میزبانی بھی کر رہا ہے۔

انٹرنیشنل ریڈ کراس نے لاطینی امریکہ میں زکا سے نمٹنے کے لیے دو کروڑ تیس لاکھ ڈالر ہنگامی امداد کی اپیل کی ہے۔

XS
SM
MD
LG