لاہور: ایک اور کم سن ملازمہ تشدد کا نشانہ

رائٹرز

پولیس نےملزم کیخلاف مقدمہ درج کرکے اس سمیت بیٹے کو زیر ِحراست لےکر پوچھ گچھ شروع کر دی ہے۔
آبادی کے لحاظ سے سب سے بڑے صوبے پنجاب کے شہر لاہور میں ایک اور ملازمہ کو گھر کے مالک نے جنسی و جسمانی تشدد کا نشانہ بنایا ۔

لاہور کے علاقے ڈیفنس کے ایک گھر میں کام کرنےوالی 16 سالہ ملازمہ کو اسکے مالک نے جو پیشے سے استاد بتایاجاتا ہے نے کئی روز تک زیادتی اور جسمانی تشدد کا نشانہ بناکر گھر میں قید رکھا ہوا تھا۔میڈیا پر نشر ہونےوالی خبروں کے مطابق لڑکی کو تشویشناک حالت میں مقامی اسپتال لایا گیا جہاں ڈاکٹروں نے اس سے زیادتی کی تصدیق کرتے ہوئے اسے سخت نگہداشت میں آئی سی یو منتقل کردیا ہے۔

دوسری جانب پوليس نے مالک کے خلاف مقدمہ درج کرلیا ہے۔ پولیس نے میڈیا نمائندوں سے گفتگتو میں کہنا ہے کہ، ’پروفیسر سلمان نامی شخص کے گھر یہ ملازمہ کام کرتی تھی جہاں اسے تشدد کا نشانہ بنایاگیا پولیس نےملزم کیخلاف مقدمہ درج کرکے اس سمیت بیٹے کو زیر حراست لےکر پوچھ گچھ شروع کردی ہے‘۔

دوسری طرف ملزم پروفیسر سلمان نےاپنے بیان میں ملازمہ پر چوری کا الزام لگاتے ہوئے کہا ہے کہ، ’میں نے گھریلو ملازمہ پر کسی قسم کا کوئی تشدد نہیں کیا اسے گرنے کی وجہ سے چوٹیں آئی ہیں‘۔

بتایاجاتا ہے کہ پروفیسر سلمان مقامی کالج میں تدریس کے پیشے سے وابستہ ہے جس نے ایک ماہ تک 16 سالہ ملازمہ کو تشدد کا نشانہ بنا کر اسے کمرے میں بند رکھا جب اسکی حالت تشویشناک ہوگئی تو اسے اسپتال منتقل کردیا گیا۔

واضح رہے کہ یہ گذشتہ چند دنوں میں متواتر تیسرا واقعہ ہے جو گھروں میں کام کرنےوالے کم سن ملازمین کے حوالے سے پیش آیا ہے اس سے قبل گزشتہ سال لاہور ہی میں گھریلو ملازمہ پر تشدد کی بعد ہلاکت کا واقعہ پیش آیا تھا جبکہ گزشتہ ہفتے کراچی شہر میں ڈاکٹر کے گھر میں کام کرنےوالے کم سن ہریش کے ساتھ پیش آیا جسے گھر کے مالک کی جانب سے تشدد کا نشانہ بناکر فلیٹ سے دھکا دے دیاگیا تھا۔