جاپان میں بچوں کی شرح پیدائش میں ریکارڈ کمی

فائل فوٹو

جاپان میں اس برس بچوں کی پیدائش کی شرح میں جنوری سے جولائی کے دوران 5.9 فیصد کمی واقع ہوئی ہے جو 1899 میں سرکاری سطح پر اعداد شمار اکٹھا کرنے کے عمل کے آغاز کے بعد سے کم ترین سطح ہے۔

جاپان کی صحت و سماجی بہبود کی وزارت کا کہنا ہے کہ اس سال ملک میں پیدا ہونے والے بچوں کی مجموعی تعداد صرف 9 لاکھ رہی۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ بچوں کی شرح پیدائش میں کمی سے ملک کی معیشت پر شدید منفی اثرات مرتب ہونے کا خدشہ ہے اور یہ خطرہ محسوس کیا جا رہا ہے کہ بڑھتی ہوئی آبادی کی دیکھ بھال کے اخراجات میں خطیر اضافہ ہو جائے گا جس سے اقتصادی ترقی کی رفتار متاثر ہو سکتی ہے۔

اعداد و شمار کے مطابق اس سال کے دوران جاپان میں پیدا ہونے والے بچوں کے مقابلے 512,000 اموات ہوئیں۔ یہ پہلی مرتبہ ہے کہ ملک میں پیدا ہونے والے 814,000 بچوں کے مقابلے میں مرنے والوں کی تعداد 500,000 رہی۔ ایک برس قبل 2018میں جاپان میں کل 918,400 بچے پیدا ہوئے تھے۔

جاپان کی آبادی اور سوشل سیکیورٹی ریسرچ کے قومی ادارے کے ترجمان کا کہنا ہے کہ شرح پیدائش میں کمی حکومت کے تخمینوں سے زیادہ ہے۔

جاپانی وزارت کے اہل کاروں کے مطابق بچوں کی پیدائش میں یہ کمی 1975 کے بعد سے سب سے زیادہ ہے جس کی وجہ ملک میں 25 سے 39 سال کی عمر کی خواتین کا تناسب کا کم ہونا ہے۔

تجزیہ کار بتاتے ہیں کہ بے بی بومرز کے بچوں کی عمریں 40 برس سے تجاوز کر چکی ہیں اور بچہ پیدا کرنے کی عمر رکھنے والی خواتین کی تعداد میں مسلسل کمی واقع ہو رہی ہے۔

حکومت نے توقع ظاہر کی ہے کہ ملک میں آئندہ برس پیدائش کی شرح 1.8 فیصد رہے گی۔ تاہم تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ 2018 اور 2019 کی شرح پیدائش کو دیکھتے ہوئے یہ ہدف حاصل کرنا مشکل ہو گا۔ 2018 میں بچوں کی پیدائش کی شرح 1.42 رہی تھی۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ کسی بھی ملک میں آبادی کا تناسب برقرار رکھنے کیلئے 2.1 فیصد کی شرح پیدائش درکار ہوتی ہے۔ یہ شرح امریکہ میں 1.72 فیصد ہے، جو ایک ماں کے لئے 0.98 بچے کے برابر ہے۔