رسائی کے لنکس

چین: دوسرے بچے کی اجازت کے باوجود شرحِ پیدائش میں کمی


فائل فوٹو
فائل فوٹو

کمیشن نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ معاشی اور سماجی حالات بھی لوگوں کی بچے پیدا کرنے کی خواہش پر اثر انداز ہورہے ہیں۔

دنیا کے سب سے گنجان آباد ملک چین میں حکومت کی جانب سے 'ون چائلڈ پالیسی' نرم کرنے اور تمام والدین کو دو بچے پیدا کرنے کی اجازت کے باوجود گزشتہ سال شرحِ پیدائش میں کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔

چین کے قومی ادارۂ شماریات کے مطابق 2017ء میں چین میں ایک کروڑ 72 لاکھ سے زائد بچے پیدا ہوئے جو کہ 2016ء کے مقابلے میں کم ہیں۔

ادارے کے مطابق 2016ء میں ملک میں ایک کروڑ 78 لاکھ بچوں کی پیدائش ہوئی تھی۔

چین کی آبادی ایک ارب 40 کروڑ کے لگ بھگ ہے اور وہ آبادی کے اعتبار سے دنیا کا سب سے بڑا ملک ہے۔ آبادی پر قابو پانے کے لیے چین کی حکومت کئی دہائیوں سے 'ون چائلڈ پالیسی' کا سختی سے نفاذ کرتی چلی آرہی تھی جسے 2015ء میں مرحلہ وار ختم کرنے کا فیصلہ کیا گیا تھا۔

چینی حکام کے مطابق 'ون چائلڈ پالیسی' کے خاتمے کا فیصلہ ملک میں عمر رسیدہ افراد کی تعداد میں اضافے اور قابلِ کار آبادی کی تعداد میں کمی کے خطرے کے پیشِ نظر کیا گیا تھا۔

'ایک بچہ پالیسی' کے خاتمے کے آغاز کے اگلے ہی برس 2016ء میں چین میں شرحِ پیدائش میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا تھا لیکن نئے اعداد و شمار کے مطابق 2017ء میں یہ شرح دوبارہ کم ہوئی ہے۔

تاہم محکمۂ شماریات کے اعداد و شمار کے باوجود چین کے صحت اور خاندانی منصوبہ بندی کے قومی کمیشن نے ایک بیان میں کہا ہے کہ گزشتہ سال بھی چین میں شرحِ پیدائش "معمول سے خاصی بلند" رہی ہے۔

کمیشن کے مطابق شرحِ پیدائش میں کمی ملک میں بچے پیدا کرنے کی عمر کی حامل خواتین کی تعداد میں کمی اور نئے شادی شدہ جوڑوں کی جانب سے بچوں کی پیدائش میں تاخیر کرنے کے فیصلے کے باعث آئی ہے۔

کمیشن نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ معاشی اور سماجی حالات بھی لوگوں کی بچے پیدا کرنے کی خواہش پر اثر انداز ہورہے ہیں۔

بیان کے مطابق بچوں کی پرورش پر اٹھنے والے اخراجات، بچوں کی صحت سے متعلق سہولتوں کی کمی اور خواتین کی پیشہ وارانہ مصروفیات شرحِ پیدائش میں کمی کی تین بڑی وجوہات ہیں۔

چین کی کمیونسٹ حکومت نے 1970ء کی دہائی کے آخری برسوں میں بڑھتی ہوئی آبادی پر قابو پانے کے لیے 'ون چائلڈ پالیسی' نافذ کی تھی جس کی خلاف ورزی کرنے والے والدین کو بھاری جرمانوں اور بعض اوقات متوقع ماؤں کو زبرستی اسقاطِ حمل کا سامنا کرنا پڑتا تھا۔

XS
SM
MD
LG