جی ایٹ اجلاس: معاشی افزائش کا فروغ اوریونان کےیورو زون میں رہنے کی حمایت

ایک باضابطہ بیان میں شرکا نے کہا کہ وہ اپنی معیشتوں کو مضبوط بنانےاور مالی مشکلات کو حل کرنے کے لیے تمام ضروری اقدامات کرنے پر زور دیں گے

ایسے میں جب یورپی قرضہ جات کا بحران جاری ہے اور صنعتی ممالک اپنی معیشتوں کو مستحکم کرنے کی کوشش میں مصروف ہیں، جی ایٹ کے سرکردہ صنعتی ممالک کے سربراہان نے اس بات کی ضرورت پر زور دیا ہے کہ افزائش کو فروغ دیا جائے اور روزگار کےمواقع پیدا کیے جائیں۔

ہفتے کو جاری ہونے والے ایک بیان میں گروپ آف ایٹ کے راہنماؤں نےاس خواہش کا اظہار کیا کہ یونان کو یوروزون میں ہی رہنا چاہیئے اور اُسے اپنے اہداف کی پاسداری کرنی پڑے گی۔ اخراجات میں کمی سے متعلق اقدامات سےتعلق توڑنے کے لیے قرض میں جکڑی ہوئی اس قوم کو یورو کو خیرباد کہنا ہو گا، یا پھر اپنے اہداف پورے نہ کرنے کی صورت میں اُسے یورو زون سے زبردستی علیحدہ کیا جائے گا۔

سالانہ اجلاس کے دوسرے دن جی ایٹ کے راہنما واشنگٹن کے نزدیک کیمپ ڈیوڈ کے صحت افزا مقام پر واقع صدارتی رہائش گاہ پراکٹھے ہوئے جس میں یورپ کے معاشی بھونچال پرغور کیا گیا۔

ایک باضابطہ بیان میں شرکا نے کہا کہ وہ اپنی معیشتوں کو مضبوط بنانےاور مالی مشکلات کو دور کرنے کے لیے تمام ضروری اقدامات کرنے پر زور دیں گے۔

جرمن چانسلر آنگلہ مرخیل نے، جن کے ملک نے قرضہ جات کے چنگل میں پھنسے یونان سے کہا ہے کہ وہ اخراجات میں کمی لانے کےلیے ٹھوس اقدامات کرے، بتایا کہ لیڈروں نے اس بات سےاتفاق کیا کہ مالی ڈسپلن اورافزائش کے فروغ کو متوازن بنانے کی کوششوں کی ہمت افزائی کی جائے۔

اجلاس کے آغاز سے قبل، امریکی صدر براک اوباما نے کہا کہ وہ برطانیہ، جرمنی، فرانس، اٹلی، جاپان، کینیڈا اور روس کے جی ایٹ کےاپنے ہم منصبوں پر زور دیں گے کہ وہ افزائش سے متعلق اقدامات کو زیادہ اہمیت دیں، کیونکہ اِن ہی کے ذریعےبڑھتے ہوئے قرضوں میں کمی لانا ممکن ہوگا، جس کی وجہ سے یورو زون کے معاشی استحکام کو خطرہ لاحق ہے۔

صدر اوباما نے کہا کہ شرکا مشرق وسطیٰ، شمالی افریقہ اورافغانستان کی توانائی سے متعلق منڈی اور ترقیات کےعدم استحکام پر گفتگو کریں گے۔

اُنھوں نے کہا کہ جمعےکے عشائیے کے دوران عہدے داروں کو موقع میسر آیا کہ وہ اِن ممالک کے سکیورٹی سے متعلق مشترکہ اہمیت کےحامل معاملات کو زیر بحث لائیں ، جن میں ایران، شام اور شمالی کوریا کے معاملات شامل ہیں۔