ایران کے ساتھ معاملات، اوباما کی مقبولیت میں کمی: سروے

فائل

گیلپ سروے نے گذشتہ چند روز کے دوران 1000 سے زائد افراد سے سوالات کیے اور جمعرات کو بتایا کہ 55 فی صد لوگ مسٹر اوباما کی ایران پالیسی کو پسند نہیں کرتے، جب کہ 33 فی صد اُن کے مؤقف کی حمایت کرتے ہیں

ایک نئے گیلپ سروے کے مطابق، تین میں سے ایک امریکی ایران جوہری پروگرام کو کنٹرول کرنے کے بین الاقوامی سمجھوتے پر صدر براک اوباما کے انداز فکر کو پسندیدگی کی نگاہ سے دیکھتا ہے۔

جائزہ رپورٹ تیار کرنے والے اِس ادارے نے گذشتہ چند روز کے دوران 1000سے زائد افراد سے سوالات کیے اور جمعرات کو بتایا کہ 55 فی صد لوگ مسٹر اوباما کی ایران پالیسی کو پسند نہیں کرتے، جب کہ 33 فی صد اُن کے مؤقف کی حمایت کرتے ہیں۔

ادھر ’کونپیک یونیورسٹی‘ کی جانب سے حالیہ دِنوں میں مرتب کیے جانے والی ایک اور جائزہ رپورٹ کے نتائج بھی اِسی قسم کے ہیں، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ امریکی ’دو سے ایک کے تناسب سے‘ بین الاقوامی ثالثی میں طے ہونے والے سمجھوتے کی مخالفت کرتے ہیں۔

اِن دِنوں، امریکی کانگریس گرمیوں کی تعطیلات پر ہے۔ تاہم، معاہدے کو منظور یا مسترد کرنے سے متعلق تجویز پر اگلے ماہ ووٹنگ متوقع ہوگی، جو سمجھوتا ایران کو جوہری ہتھیار بنانے سے روکتا ہے، جس کے عوض، ایران پر معاشی پابندیاں ہٹا لی جائیں گی۔

گیلپ کی جانب سے کیے گئے سروے میں، صدر اوباما نے باقی سارے شعبہ جات کے حوالے سے بہتر مارکس لیے، جن میں نسلی تعلقات، تعلیم، معیشت، دہشت گردی اور خارجہ امور شامل ہیں، حالانکہ اِن سارے معاملات کے ضمن میں اُنھیں واضح اکثریتی حمایت حاصل نہیں ہے۔

گیلپ نے کہا ہے کہ مسٹر اوباما کی مجموعی پسندیدگی کی شرح 47 فی صد ہے۔