سری نگر: وادئ کشمیر میں عام ہڑتال، نعرے بازی

بڈگام

بُدھ کو عام ہڑتال کی وجہ سے وادئ کشمیر میں کاروبارِ زندگی مفلوج ہو کر رہ گیا، جس کی کال استصوابِ رائے کا مطالبہ کرنے والی جماعتوں کے ایک اتحاد نے دی تھی۔ ادھر نئی دہلی میں، امور داخلہ کے وزیر نے کہا ہے کہ ’’بھارت کشمیر میں تشدد کو پھیلانے کی اجازت نہیں دے گا‘‘

بھارتی حفاظتی دستوں کی فائرنگ میں مبینہ طور پر تین مقامی نوجوانوں کے ہلاک اور تقریبا" 30 کے زخمی ہونے کے معاملے پر بُدھ کو وادئ کشمیر میں عام ہڑتال کی گئی۔ اطلاعات کے مطابق، ہزاروں افراد نے ہلاک شدہ نوجوانوں کی تدفین میں شرکت کی، جب کہ مظاہرین نے وسطی ضلح بڈگام میں 'ہم آزادی چاہتے ہیں' کے نعرے لگائے۔

اس سے پہلے، بتایا جاتا ہے کہ الگ الگ مقامات پر سوگوار اکٹھے ہوئے اور ایک سے زائد بار نمازِ جنازہ ادا کی گئی اور شرکا نے اس عزّم کا اظہار کیا کہ، بقول اُن کے، جدوجہد جاری رہے گی۔

بھارتی زیر انتظام کمشیر میں، جنوبی ضلح کُلگام کے یاری پورہ گاؤں میں کالعدم لشکرِ طیبہ کے ایک کمانڈر توصیف احمد وگے کی تدفین میں بھی بڑی تعداد میں لوگوں نے حصہ لیا۔ اِس موقعے پر بھی آزادی کے مُطالبے کے حق میں نعرے بازی کی گئی۔

عینی شاہدین کے مطابق، تدفین کے بعد علاقے میں مشتعل نوجوان مُظاہرین اور حفاظتی دستوں کے درمیان جھڑپیں ہوئیں۔

اطلاعات کے مطابق، وگے منگل کے روز حفاظتی دستوں کے ساتھ ہونے والی ایک جھڑپ کے دوران مارا گیا تھا۔ جھڑپ جو بڈگام کے چاڈورہ علاقے میں پیش آئی تھی اور 10 گھنٹے تک جاری رہنے کے بعد ایک نجی مکان میں محصور اس واحد عسکریت پسند کی ہلاکت پر ختم ہوئی، جس دوران آس پاس کے گھروں اور قریبی دیہات سے لوگ آزادی کے حق میں مُطالبے پر مبنی نعرے لگاتے ہوئے جائے واردات کی طرف بڑھنے لگے، جہاں، اطلاعات کے مطابق، اُن کا حفاظتی دستوں کے ساتھ آمنا سامنا ہوا۔

اس موقعے پر، بتایا جاتا ہے کہ حفاظتی دستوں نے مظاہرین پر گولیاں چلائیں اور آنسو گیس کے گولے داغے، جس کے نتیجے میں 30 سے زائد نوجوان اور نو عمر لڑکے زخمی ہوئے، جن میں سے تین اس وقت چل بسے جب اُنھیں طبی امداد کے لیے اسپتال لے جایا جا رہا تھا۔

بھارت کی وفاقی پولیس فورس، ’سی آر پی ایف‘ کے ڈپٹی سُپراِنٹنڈنٹ، سنجے کمار نے بتایا کہ مقامی لوگوں نے عسکریت پسند کے خلاف آپریشن میں رخنہ ڈالنے کی دانستہ کوشش کی، جس کے باعث ’’ہمارا کام اور بھی زیادہ مشکل بن گیا تھا، کیونکہ ہمیں اپنی توجہ اُس سے ہٹانا پڑی تھی‘‘۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ تشدد پر اُتر آنے والے ہجوم کی سنگباری سے ’سی آر پی ایف‘ کے 43 اور مقامی پولیس کے 20 سپاہی زخمی ہوگئے۔

بھارت کے قومی دھارے میں شامل بعض اپوزیشن جماعتوں اور استصوابِ رائے کا مُطالبہ کرنے والی کشمیری تنظیموں نے پولیس افسر کے اس بیان پر سوال اُٹھایا ہے اور الزام لگایا کہ ’’حفاظتی دستوں نے نہتے مظاہرین پر طاقت کا بے دریغ استعمال کیا‘‘؛ جس کے ثبوت ،میں، اُنہوں نے موجود ویڈیوز اور تصاویر کا حوالہ دیا۔

بُدھ کو عام ہڑتال کی وجہ سے وادئ کشمیر میں کاروبارِ زندگی مفلوج ہو کر رہ گیا، جس کی کال استصوابِ رائے کا مطالبہ کرنے والی جماعتوں کے ایک اتحاد نے دی تھی۔

اس بیچ کئی مقامات پر جن میں بارہمولہ کا پرانا قصبہ، قریبی علاقہ پلہالن اور دارالحکومت سرینگر بھی شامل ہیں، مظاہرین اور حفاظتی دستوں کے درمیان تازہ جھڑپوں کی اطلاعات ملی ہیں۔

اُدھر نئی دہلی میں، امور داخلہ کے وفاقی وزیرِ مملکت، ہنس راج اہِر نے پارلیمان کو بتایا کہ گذشتہ سال کے جولائی میں معروف عسکری کمانڈر بُرہان مظفر وانی کو ہلاک کئے جانے کے بعد وادئ کشمیر میں کئی ماہ تک جاری رہنے والی بد امنی کے دوراں 104 مقامی نوجوان عسکریت پسندوں کی صفوں میں شامل ہو گئے تھے اور ان میں سے 64 اب بھی متحرک ہیں، جن میں سے 12 کو ہلاک کیا جا چکا ہے، 25 کو گرفتار کیا گیا، جبکہ دو نے حفاظتی دستوں کے سامنے ہتھیار ڈال دیئے ہیں۔

اہر نے چاڈورہ آپریشن میں حصہ لینے والے حفاظتی دستوں کو اُن کی بہادری پر خراجِ تحسین ادا کیا؛ اور الزام لگایا کہ، بقول اُن کے، ’’کشمیری نوجوانوں کو پاکستانی دہشت گردی سے شہ مل رہی ہے‘‘۔

تاہم، اُنہوں نے کہا کہ ’’بھارت کشمیر میں تشدد کو پھیلانے کی اجازت نہیں دے گا۔‘‘

اُنہوں نے پتھراؤ میں حفاظتی اہلکاروں کے زخمی ہونے پر افسوس کا اظہار کیا۔