رسائی کے لنکس

’ایل او سی‘ کے قریب دہشت گردوں کی نقل و حرکت کا دعویٰ درست نہیں: پاکستانی فوج


فائل فوٹو

دفاعی تجزیہ کار ماریہ سلطان نے وائس آف امریکہ سے گفتگو میں کہا کہ دونوں ملکوں کے ڈٓائریکٹر جنرل ملٹری آپریشنز کے درمیان رابطے سے اس بات کی عکاسی ہوتی ہے کہ صورت حال خاصی کشیدہ ہے۔

پاکستانی فوج نے بھارت کی اُس تشویش کو مسترد کر دیا ہے، جس میں کشمیر میں ’لائن آف کنٹرول‘ کے قریب دہشت گردوں کی نقل و حرکت کا الزام لگایا تھا۔

واضح رہے کہ بھارتی فوج کے ڈائریکٹر جنرل ملٹری آپریشنز نے جمعرات کو پاکستانی ہم منصب سے ’ہاٹ لائن‘ پر رابطہ کر کے اُنھیں لائن آف کنٹرول ’ایل او سی‘ پر دہشت گردوں کی مبینہ نقل و حرکت سے متعلق اپنی تشویش سے آگاہ کیا تھا۔

پاکستانی فوج کے ترجمان میجر جنرل آصف غفور نے سماجی رابطے کی ویب سائیٹ ’ٹوئیٹر‘ پر ایک پیغام میں کہا کہ ’ہاٹ لائن‘ پر رابطے کے دوران ’ایل او سی‘ پر دہشت گردوں کی مبینہ نقل و حرکت کے بارے میں بھارتی تشویش کو سختی سے مسترد کیا گیا۔

میجر جنرل آصف غفور نے کہا کہ بھارتی فوج سے کہا گیا ہے کہ اگر اُس کے پاس اس بارے میں شواہد ہیں تو وہ فراہم کیے جائیں۔

واضح رہے کہ دونوں ملکوں کے درمیان حالیہ کشیدگی میں اضافہ گزشتہ سال ستمبر کے وسط میں بھارت کے زیر انتظام علاقے اوڑی میں فوج کے ایک ہیڈکوارٹر پر عسکریت پسندوں کے حملے میں کم از کم 18 بھارتی فوجیوں کی ہلاکت کے بعد ہوا۔

فائل فوٹو
فائل فوٹو

اس حملے کے بعد بھارت نے پاکستان کے زیرانتظام کشمیر میں مبینہ عسکریت پسندوں کے اہداف کے خلاف ’سرجیکل اسٹرائیک‘ کا بھی دعویٰ کیا تھا لیکن پاکستان اس دعوے کی مسلسل تردید کرتا آیا ہے۔

دفاعی تجزیہ کار ماریہ سلطان نے وائس آف امریکہ سے گفتگو میں کہا کہ دونوں ملکوں کے ڈائریکٹر جنرل ملٹری آپریشنز کے درمیان رابطے سے اس بات کی عکاسی ہوتی ہے کہ صورت حال خاصی کشیدہ ہے۔

’’جب اس سطح پر بات ہوتی ہے تو اس کا مطلب ہے کہ صورت حال کشیدہ ہے اور دوسری بات یہ کہ اگر غلط فہمی کی بنیاد پر کوئی چیز ہو رہی ہے تو اسے دور کیا جائے‘‘۔

اُنھوں نے کہا کہ خطے کے امن کے لیے ضروری ہے کہ دونوں ممالک مذاکرات کی راہ اخیتار کریں۔

دریں اثنا پاکستانی وزارت خارجہ کے ترجمان نفیس ذکریا نے جمعرات کو ہفتہ وار نیوز بریفنگ میں کہا کہ بھارت کے زیر انتظام کشمیر کے علاقے اوڑی میں فوجی اڈے پر حملے کے الزام میں گرفتار کیے گئے دو پاکستانی لڑکوں کو بھارت جمعہ کو پاکستانی حکام کے حوالے کر دے گا۔

نفیس ذکریا کا کہنا تھا کہ ان لڑکوں کے خلاف کچھ ثابت نہیں ہو سکا ہے۔

فیصل حسین اعوان اور احسن خورشید نامی دو لڑکوں کو گزشتہ سال ستمبر میں اوڑی حملے میں سہولت کاری کے الزام میں گرفتار کیا گیا تھا۔

ان دونوں لڑکوں کا تعلق پاکستان کے زیرانتظام کشمیر سے ہے اور اطلاعات کے مطابق وہ غلطی سے سرحد عبور کر کے بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں چلے گئے تھے۔

دریں اثنا پاکستانی وزارت خارجہ کے ترجمان نفیس ذکریا نے سمجھوتہ ایکسپریس دھماکوں کے ماسٹر مائنڈ سوامی آنند کو بھارت کی عدالت کی طرف سے بری کرنے کے فیصلے کو ’افسوسناک‘ قرار دیا ہے۔

بھارت سے مسافروں کو پاکستان لانے والی ٹرین سمجھوتہ ایکسپریس میں 2007ء میں دھماکوں کے بعد آگ بھڑک اٹھی تھی جس سے ساٹھ سے زائد افراد ہلاک ہو گئے تھے۔ ان افراد میں اکثریت پاکستانی شہریوں کی تھی۔ یہ واقعہ بھارتی سرحد کے اندر پیش آیا تھا اور پاکستان دھماکے میں ملوث افراد کو سزا دلوانے کا مطالبہ کرتا آیا ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG