جسٹس (ر) جاوید اقبال چیئرمین نیب مقرر، نوٹیفیکیشن جاری

(فائل)

وزارت قانون کے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق، چیئرمین نیب کی تعیناتی وزیر اعظم اور اپوزیشن لیڈر کی مشاورت سے کی گئی ہے، صدر ممنون حسین نے نیب آرڈیننس کے سیکشن 6بی کے تحت تقرری کی منظوری دی ہے

پاکستان میں جسٹس (ر) جاوید اقبال کو نیا چیئرمین نیب مقرر کر دیا گیا ہے اور وزارت قانون نے اس سلسلہ میں باضابطہ نوٹیفکیشن بھی جاری کر دیا ہے۔

جسٹس (ر) جاوید اقبال کو آئندہ چار سال کے لیے چیئرمین نیب مقرر کیا گیا ہے۔

وزارت قانون کے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق، چیئرمین نیب کی تعیناتی وزیر اعظم اور اپوزیشن لیڈر کی مشاورت سے کی گئی ہے، صدر ممنون حسین نے نیب آرڈیننس کے سیکشن 6بی کے تحت تقرری کی منظوری دی ہے۔

اس سے قبل چیئرمین نیب کےلیے جسٹس (ر) جاوید اقبال کے نام پر اتفاق ہو گیا تھا، جس کا اعلان قائد حزب اختلاف سید خورشید شاہ نے سکھر میں کیا تھا۔

سید خورشید شاہ نے کہا ہے کہ آنے والے وقت میں چیئرمین نیب کا عہدہ بہت اہم ہے۔

سکھر میں میڈیا سے گفتگو میں ان کا کہنا تھا کہ چیئرمین قومی احتساب بیورو کے حوالے سے انہوں نے حکومت کو جسٹس(ر) جاوید اقبال کے نام کے لیے قائل کیا اور اس سلسلہ میں ٹیلی فون پر حتمی مشاورت بھی ہوئی۔

اپوزیشن لیڈر نے کہا کہ اب تک اس حوالے سے چار ملاقاتیں ہوچکی تھیں، جبکہ آج آخری تاریخ تھی؛ اس لیے نام دینا ضروری تھا۔

خورشید شاہ نے کہا کہ جسٹس (ر) جاوید اقبال ایبٹ آباد کمیشن کےسربراہ رہے، ان کا ماضی بہت اچھا ہے۔

نیب کے موجودہ چیئرمین قمر زمان چودھری10 اکتوبر2017 کو اپنی مدت ملازمت مکمل ہونے پر ریٹائر ہو رہے ہیں۔

حکومت نے چیئرمین نیب کے لیے تین نام دیئے تھے جن میں آفتاب سلطان، جسٹس (ر) رحمت جعفری اور جسٹس (ر) چودھری اعجاز شامل ہیں، جبکہ اپوزیشن نے جسٹس (ر) فقیر محمد کھوکھر، جسٹس (ر) جاوید اقبال اور سابق سیکریٹری الیکشن کمیشن اشتیاق احمد کے نام چیئرمین نیب کے لئے تجویز کئے تھے۔

جسٹس (ر) جاوید اقبال 2000ء سے 2011ء تک سپریم کورٹ کے جج رہے۔ بعد ازاں وہ مئی 2011ء میں ایبٹ آباد میں القاعدہ کے روپوش راہنما اسامہ بن لادن پر امریکی اسپیشل فورسز کی کارروائی سے متعلق بنائے گئے کمیشن کے بھی سربراہ رہے۔ اس کمیشن نے سیکڑوں سفارشات پر مبنی تقریباً سات سو صفحات کی رپورٹ تیار کرکے وزیراعظم کو ارسال کر دی تھی جسے حکومت نے منظر عام پر نہ لانے کا فیصلہ کیا۔ علاوہ ازیں، جاوید اقبال ملک میں لاپتا یا جبری طور پر گمشدہ افراد سے متعلق بنائے گئے کمیشن کی بھی سربراہی کر چکے ہیں۔