غزہ: جاسوسی کے الزام میں دو افراد کو پھانسی

فائل

غزہ کی وزارتِ داخلہ کے مطابق دونوں ملزمان کی جانب سے فراہم کی جانے والی معلومات کی بنیاد پر اسرائیل نے غزہ میں اہداف کو نشانہ بنایا تھا۔
فلسطین کے علاقے غزہ کی حکومت نے اسرائیل کے لیے جاسوسی کے الزام میں دو افراد کو پھانسی دیدی ہے۔

غزہ پر برسرِ اقتدار 'حماس' کی حکومت کا کہنا ہے کہ دونوں افراد غزہ پر ہونے والے فضائی حملوں میں اسرائیلی افواج کی معاونت کرتے تھے۔

غزہ کی وزارتِ داخلہ کی جانب سے جاری کیے جانے والے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ دونوں ملزمان نے "قابض اسرائیل" کو ایسی معلومات فراہم کی تھیں جن کے نتیجے میں "عام شہریوں کی شہادت ہوئی"۔

بیان کے مطابق دونوں ملزمان کی جانب سے فراہم کی جانے والی معلومات کی بنیاد پر اسرائیل نے غزہ میں اہداف کو نشانہ بنایا تھا۔

وزارتِ داخلہ کے بیان میں کہا گیا ہے کہ دونوں افراد کو وکلا تک رسائی فراہم کی گئی تھی اور عدالتی کارروائی کے دوران اپنی صفائی کا مکمل موقع دیا گیا تھا۔

بیان کےمطابق ایک ملزم کی سزا پر عمل درآمد پھانسی کے ذریعے کیا گیا ہے جب کہ دوسرے کو فائرنگ اسکواڈ کے ذریعے ہلاک کیا گیا۔

امریکہ اور اسرائیل میں " دہشت گرد " تنظیم قرار دی جانے والی 'حماس' نے 2007ء میں غزہ کی حکومت سنبھالی تھی جس کے بعد سے اسرائیلی محاصرے کا شکار اس فلسطینی علاقے میں اب تک 19 قیدیوں کو پھانسی کی سزا دی جاچکی ہے۔

پھانسی پانے والے قیدیوں میں سے 10 پر اسرائیل کے لیے جاسوسی کرنے کا الزام تھا۔

فلسطینی قانون کے مطابق قیدیوں کی پھانسی کی سزا پر عمل درآمد فلسطینی صدر محمود عباس کی منظوری سے مشروط ہے۔ لیکن صدر محمود عباس کی جماعت 'الفتح' کے ساتھ سنگین اختلافات کے باعث حماس کی حکومت اس نوعیت کی مشاورت سے گریز کرتی رہی ہے۔

دونوں فلسطینی جماعتوں نے سات سال سے جاری اختلافات اور سیاسی تنازع کے خاتمے کے لیے گزشتہ ماہ ہی ایک معاہدے پر دستخط کیے ہیں جس کے تحت فلسطینی کے دونوں حصوں – مغربی کنارے اور غزہ کی پٹی – میں متفقہ عبوری حکومت قائم کی جائے گی جو نئے انتخابات کرائے گی۔