غزہ تنازع، حماس نے ذاتی دشمنیاں نمٹائیں: ایمنسٹی

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ فلسطینیوں نے جِن لوگوں کو ہدف بنایا وہ یا تو اُن کے سیاسی حریف تھے یا پھر وہ افراد تھے جن پر اسرائیل کا ساتھ دینے کا الزام تھا۔۔۔اِس لڑائی میں حماس نے اپنی ذاتی دشمنیاں نمٹائیں اور غزہ کی پٹی میں خوف کا ماحول پیدا کیا

بین الاقوامی حقوق کی صورت حال پر نگاہ رکھنے والوں کا کہنا ہے کہ گذشتہ برس اسرائیل کےساتھ تنازع کے دوران، غزہ کی پٹی میں اغوا، اذیت اور فلسطینیوں کی ہلاکت میں ملوث ہو کر، حماس کا شدت پسند گروپ جنگی جرائم میں ملوث ہوا۔

’ایمنسٹی انٹرنیشنل‘ نے بدھ کے روز ایک رپورٹ جاری کرتے ہوئے بتایا ہے کہ حماس نے 23 کے قریب فلسطینیوں کو گولیاں چلا کر ہلاک کیا، جب کہ درجنوں کو گرفتار کیا گیا۔ اِس مسلح تنازع کے دوران غزہ کے علاقے پر حماس کا کنٹرول تھا۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ فلسطینیوں نے جِن لوگوں کو ہدف بنایا وہ یا تو اُن کے سیاسی حریف تھے یا پھر وہ افراد تھے جن پر اسرائیل کا ساتھ دینے کا الزام تھا۔

رپورٹ میں ایک واقعے کی نشاندہی کی گئی ہے جو 22 اگست کو ہوا، جس میں حماس سے وابستہ فورس نے چھ افراد کو عام چوک پر ایک مسجد کے سامنے پھانسیاں دی، جہاں سینکڑوں شائقین موجود تھے، جن میں بچے بھی شامل تھے۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اِس لڑائی میں حماس نے اپنی ذاتی دشمنیاں نمٹائیں اور غزہ کی پٹی میں خوف کا ماحول پیدا کیا۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ جِن 16 افراد کو کھلے عام پھانسی دی گئی وہ اس مسلح تنازع کے چھڑنے سے قبل حماس کی حراست میں تھے۔

ایمنسٹی نے حماس پر اِس بات کا بھی الزام لگایا ہے کہ اُس نےقیدیوں سے ’اعترافی بیان‘ حاصل کرنے کے لیے اذیت کا حربہ استعمال کیا۔

ایمنسٹی نے کہا ہے کہ کسی مسلح تنازع کے دوران زیر حراست افراد سے اذیت سے پیش آنا اور ظالمانہ سلوک روا رکھنا، جنگی جرائم کے زمرے میں آتا ہے، جسے ماورائے عدالت قتل خیال کیا جاتا ہے۔


اس نے غزہ کی اصل انتظامیہ سے مطالبہ کیا کہ قانون کا نفاذ کرنے والے اہل کاروں کو پیغام بھیجیں کہ وہ زیر حراست افراد کے ساتھ ہر صورت بہتر سلوک روا رکھنے کو یقینی بنائیں۔

حماس کے ایک اہل کار، صلاح بارداویل نے ’ایسو سی ایٹڈ پریس‘ کو بتایا کہ رپورٹ میں درج تفصیل کے بارے میں، حماس چھان بین کر رہی ہے۔