بھارتی کشمیر: بی جے پی رہنما بھائی اور والد سمیت قتل

فائل

بھارت کے زیرِ انتظام کشمیر کے شمالی ضلع بانڈی پور میں بُدھ کی رات نامعلوم مسلح افراد کے ایک حملے میں ایک مقامی سیاسی کارکن، اُس کا بھائی اور والد ہلاک ہو گئے ہیں۔

شورش زدہ علاقے کے پولیس حکام نے بتایا کہ شیخ وسیم باری نامی سیاسی کارکن جو بھارت کی حکمراں جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کا سابق ضلع صدر تھا بانڈی پور کے ایک بازار میں اپنے والد کی دکان پر بیٹھا تھا کہ مسلح افراد نے اُس پر گولیوں کی بوچھاڑ کر دی۔

پولیس کے مطابق، دکان میں موجود اُس کا بھائی عمر باری اور والد شیخ بشیر احمد بھی اس حملے میں شدید زخمی ہوئے۔ پولیس نے بتایا کہ تینوں کو فوری طور پر ایک مقامی اسپتال لے جایا گیا، لیکن وہ وہاں زخموں کی تاب نہ لاکر چل بسے۔ تاہم، اسپتال ذرائع نے بتایا کہ تینوں کو جب وہاں لایا گیا تو ڈاکٹروں نے انہیں مردہ قرار دے دیا تھا۔

پولیس حکام نے اس واقعے کے لیے بھارتی زیرِ انتظام کشمیر میں سرگرم علیحدگی پسند عسکریت پسندوں کو موردِ الزام ٹھیرایا ہے۔

سری نگر میں پولیس کے ایک ترجمان نے بتایا کہ یہ دہشت گردی کا واقعہ ہے اور اس میں ملوث افراد کو زندہ یا مردہ پکڑنے کے لئے کارروائی شروع کی گئی ہے۔

سری نگر سے 66 کلومیٹر شمال میں واقع بانڈی پورضلع صدر مقام سے موصولہ ایک اطلاع میں کہا گیا ہے کہ تینوں باپ بیٹوں کو مسلح افراد نے اُن کے برلب سڑک مکان کی پہلی منزل میں واقع دکان کے باہر گولیاں ماریں۔ مقتولیں کا گھر ایک پولیس اسٹیشن کے مقابل واقع ہے۔

پولیس ذرائع کے مطابق، وسیم باری اور اُن کے اہلِ خانہ کو عسکریت پسندوں کی طرف سے لاحق خطرے کے پیشِ نظر دس پولیس محافظ الاٹ کئے گئے تھے۔ لیکن ان میں سے ایک بھی حملے کے وقت وہاں موجود نہیں تھا۔ سبھی پولیس اہلکاروں کو غفلت برتنے کی پاداش میں معطل کرکے گرفتار کرلیا گیا ہے۔ انسپکٹر جنرل آف پولیس وجے کمار نے پولیس اہلکاروں کی گرفتاری کی تصدیق کی ہے۔

یہ واقعہ جس کے لئے تاحال بھارتی زیرِانتظام کشمیر میں سرگرم کسی عسکری تنظیم نے ذمہ داری قبول نہیں کی، وادی کشمیر میں معروف عسکری کمانڈر برہان مظفر وانی کی چوتھی برسی پر کی جانے والی ایک روزہ ہڑتال کے اختتام پر پیش آیا۔