رسائی کے لنکس

سری نگر: سیکیورٹی اہل کاروں کے ساتھ جھڑپ، دو مشتبہ عسکریت پسند ہلاک


سکیورٹی اہل کار (فائل)

بھارتی زیرِ انتظام کشمیر کے گرمائی صدر مقام سری نگر میں پیر اور منگل کی درمیانی شب مشتبہ عسکریت پسندوں اور حفاظتی دستوں کے درمیان ہونے والی جھڑپ کئی گھنٹے تک جاری رہی۔

منگل کی سہہ پہر عہدیداروں نے اعلان کیا کہ جھڑپ میں عسکری تنظیم حزب المجاہدین کے دو اہم رکن مارے گیے ہیں جب کہ دو حفاظتی اہلکار زخمی ہوئے ہیں۔ پولیس ذرائع نے زخمی ہونے والے حفاظتی اہلکاروں کی تعداد پانچ بتائی ہے اور ان میں سے ایک کی حالت تشویشناک بتائی جاتی ہے۔

عہدیداروں نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ ہلاک ہونے والے عسکریت پسندوں میں سرکردہ کشمیری راہنما اور استصواب رائے کا مطالبہ کرنے والی جماعت تحریکِ حریت کے سربراہ محمد اشرف خان کا بیٹا جنید اشرف خان بھی شامل ہے۔ اُن کے ساتھ مارے جانے والے دوسرے عسکریت پسند کی شناخت طارق احمد شیخ کے طور پر کی گئی ہے اور بتایا گیا ہے کہ وہ شورش زدہ جموں و کشمیر کے جنوبی ضلع پُلوامہ کا رہنے والا تھا۔

بتایا جاتا ہے کہ جنید اشرف 23 مارچ 2018 کو سری نگر میں اپنے گھر سے نمازِ جمعہ پڑھنے کے لیے نکلے لیکن واپس نہیں لوٹے۔ دو دن بعد اُن کی ایک تصویر جس میں انہیں ایک اے کے 47 بندوق تھامے دیکھا جا سکتا تھا، سوشل میڈیا پر وائرل ہوگئی تھی۔ اس کے ساتھ ہی یہ پتا چلا کہ 26 سالہ جنید حزب المجاہدین میں شامل ہوگیے ہیں۔

جھڑپ کے آغاز پر ہی سری نگر میں موبائل انٹرنیٹ سروسز بند کی گئیں۔ بعد میں سوائے سرکاری کمپنی بی ایس این ایل کی فراہم کردہ سروسز کے موبائل فون سہولیات بھی روک دی گئیں۔ حکام نے بتایا کہ ایسا حفظِ ما تقدم کے طور پر کیا گیا۔

جھڑپ کے دوران ایک نجی گھر مکمل طور پر تباہ ہوگیا اور کئی دوسرے مکانات کو نقصان پہنچا۔ مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ محصور عسکریت پسندوں کو زیر کرنے کے لیے حفاظتی دستوں نے مارٹر بم داغے اور راکٹ لانچروں اور ہلکے اور درمیانی درجے کے ہتھیاروں کا استعمال کیا۔

عہدیداروں نے بتایا کہ فائرنگ کے تبادلے کے دوران مکان میں آگ لگ گئی جسے عسکریت پسند مبینہ طور پر کمین گاہ کے طور پر استعمال کر رہے تھے۔ بعض مقامی افراد نے الزام لگایا ہے کہ لڑائی سے بچنے کے لیے وہ گھر بار چھوڑ کر محفوظ مقامات کو منتقل ہوئے تو اُن کی غیر حاضری نے حفاظتی دستوں نے اُن کے گھروں میں گھس کر سونے کے زیورات اور دوسری قیمتی چیزیں اٹھالیں۔ عہدیداروں نے ان الزامات کی سختی کے ساتھ تردید کی ہے۔

اسی دوران، بتایا جاتا ہے کہ مقامی لوگوں نے سڑکوں پر آکر بھارت مخالف اور عسکریت پسندوں کے حق میں نعرے لگائے۔ حفاظتی دستوں نے انہیں منتشر کرنے کے لیے طاقت استعمال کی تو مظاہرین میں شامل نوجوانوں نے اُن پر پتھراؤ کیا۔ دونوں جانب تصادم کا یہ سلسلہ نہ صرف آخری اطلاع آنے تک جاری تھا، بلکہ بعض قریبی علاقوں سے بھی مظاہرین اور پولیس کے درمیان محاذ آرائی کی اطلاعات ملی ہیں۔

انسپکٹر جنرل آف پولیس وجے کمار نے بتایا کہ حفاظتی دستوں نے یہ مصدقہ اطلاع ملنے پر کہ علاقے میں، اُن کے بقول، دہشت گردوں کا ایک گروپ چھپا بیٹھا ہے اسے گھیرے میں لیکر آپریشن شروع کیا۔ انہوں نے جنید اشرف کی ہلاکت کو جموں و کشمیر پولیس اور دوسرے حفاظتی دستوں کی ایک بڑی کامیابی قرار دیا۔

بھارتی فوج، مقامی پولیس کے شورش مخالف اسپیشل آپریشنز گروپ (ایس او جی) اور دوسرے سرکاری دستوں نے نئی دہلی کے زیرِ انتظام کشمیر میں سرگرم عسکریت پسندوں کے خلاف کارروائیوں میں حالیہ ہفتوں میں تیزی لائی ہے۔ عہدیداروں کا کہنا ہے کہ اس سال اب تک ستر سے زائد عسکریت پسندوں کو ہلاک کیا جاچکا ہے۔ اس دوران تیس کے قریب سکیورٹی اہلکار ہلاک ہوئے ہیں، جبکہ سولہ عام شہری بھی تشدد کا شکار ہو کر مارے گیے ہیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG