انٹرنیٹ ٹیکنالوجی انتہا پسندی کے خلاف اہم ہتھیار

انٹرنیٹ ٹیکنالوجی انتہا پسندی کے خلاف اہم ہتھیار

انٹرنیٹ مارکیٹنگ ریسرچ فرم Miniwatts Group کے مطابق، دنیا بھر میں انٹرنیٹ استعمال کرنے والوں کی تعداد ایک اعشاریہ سات ارب ہے ۔ افریقہ میں چھہ کروڑ 70 لاکھ افراد انٹرنیٹ استعمال کرتے ہیں جب کہ 2000ء میں ان کی تعداد صرف 45 لاکھ تھی۔

برطانیہ میں اس ہفتے دنیا بھر کے سوشل میڈیا کے سرگرم کارکنوں کی کانفرنس ہوئی جس میں متشدد انتہا پسندی کے خلاف جنگ میں انٹرنیٹ اور موبائل ٹیکنالوجی کے استعمال کے طریقوں پر غور کیا گیا۔

لندن میں ہونے والی اس دو روزہ کانفرنس کا پیغام یہ تھا کہ اب عام شہری تشدد کے خلاف جنگ میں انٹرنیٹ اور موبائل فون استعمال کر رہے ہیں، اور یہ تحریک روز بروز پھیلتی جائے گی۔

اس کانفرنس کا اہتمام Alliance for Youth Movement نامی تنظیم نے کیا تھا۔ جیسن لائبمیناس تحریک کے بانیوںمیں شامل ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ سوشل نیٹ ورکنگ کی سائٹ، Facebook، وڈیو دکھانے والی سائٹ YouTube اور مائکرو بلاگنگ سائٹ، Twitter، انتہا پسندی کے خلاف جنگ میں انتہائی اہم ہتھیار بن گئے ہیں۔ لیکن، انھوں نے بتایا کہ انتہا پسند گروپ بھی انٹرنیٹ کو بڑی چابکدستی سے اپنے مقاصد کے فروغ کے لیئے استعمال کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ’’ القاعدہ جیسے گروپوں نے میڈیا کے استعمال میں غیر معمولی جدت اور ذہانت کا مظاہرہ کیا ہے ۔ انھوں نے مقبول بلاگ قائم کیئے ہیں، وہ YouTube جیسے پلیٹ فارمز (platforms)پر بھی موجود ہیں، اور Second Life جیسے پلیٹ فارمز کو بھی بڑے موئثر طریقے سے استعمال کر رہے ہیں۔ انتہا پسند گروپ اکثر ان جدید طریقوں کے استعمال میں ان لوگوں کے مقابلے میں زیادہ موئثر ہیں جو ان کے خلاف لڑنے کی کوشش کر رہے ہیں‘‘۔

لائبمین کہتے ہیں کہ سوشل میڈیا، ریڈیو اور ٹیلیویژن جیسے روایتی ذرائع کی توسیع شدہ شکل ہے ۔ فرق صرف یہ ہے کہ انٹرنیٹ کے استعمال کے ذریعے لوگ بہت کم خرچ پر اور انتہائی آسانی سے اپنے مقصد کے بارے میں عالمی سطح پر توجہ حاصل کر سکتے ہیں۔ ساری دنیا میں ، لوگ نا انصافیوں کے خلاف جدو جہد میں انٹرنیٹ کو استعمال کر رہے ہیں۔ مثال کے طور پر، ایران میں میڈیا پر سینسر شپ کو غیر موئثر بنانے کے لیئے Twitter کو استعمال کیا گیا ہے ۔ ان کےمطابق ’’ایران میں Twitter کے اتنے بڑے پیمانے پر استعمال کی ایک وجہ یہ ہے کہ جن لوگوں کو اکثر میڈیا کوریج سے محروم کر دیا جاتا ہے، اور جو انٹرنیٹ تک بھی رسائی حاصل نہیں کر سکتے، وہ Twitter کے ذریعے اپنے پیغامات ساری دنیا تک پہنچا سکتے ہیں‘‘۔

کولمبیا کے Oscar Morales Guevara نے جنوری 2008ء میں باغی گروپ Revolutionary Armed Forces of Columbia کے خلاف ایک Facebook گروپ قائم کیا۔Morales نے

اس چھاپہ مار تنظیم کے خلاف زبردست مارچ کی اپیل کی۔ انھوں نے Facebook کے ذریعے ایک کروڑ بیس لاکھ سے زیادہ لوگوں کو جمع کر لیا جنھوں نے دنیا بھر میں 200 سے زیادہ شہروں میں مارچ کیا۔
اس کے حامیوں میں کولمبیا کے صدر Alvaro Uribe اور ملک کا سب سے زیادہ با اثر اخبار El Tiempo بھی شامل تھا۔ لیکن Morales کہتے ہیں کہ اس تحریک میں سیاست کا دخل نہیں تھا۔ انھوں نے کہا کہ ’’سیاسی پارٹیوں سے ہمارا کسی قسم کا کوئی رابطہ نہیں تھا۔ ہم سب عام سے شہری تھے جو اپنے جذبات کا اظہار کر رہے تھے اور یہ مطالبہ کررہے تھے کہ ہماری آواز سنی جائے‘‘۔ وہ کہتے ہیں کہ انٹرنیٹ نے لوگوں کو یہ طاقت عطا کی ہے کہ وہ غیر جانبدار ہوکر سوچ سکیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ’’ انٹرنیٹ کی ایک خوبی یہ ہے کہ اس کے ذریعے ہم حکومت پر، یا روایتی میڈیا پر انحصار کیئے بغیر، خود اپنی آواز بلند کر سکتے ہیں، اور اپنی تحریک شروع کر سکتے ہیں۔ Facebook خود ہی میڈیا ہے‘‘۔

پاستر Kingsley Bangwell نائجیریا میں قائم Youngstars Foundation سے وابستہ ہیں جو نوجوانوں کو افریقہ میں سماجی بھلائی کے منصوبوں میں شرکت کے لیے آمادہ کرتی ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ افریقہ میں انٹرنیٹ کا استعمال ابھی اتنا عام نہیں ہوا ہے کہ اسے ایک مفید وسیلے کے طور پر استعمال کیا جا سکے۔ لیکن موبائل فونز سے زندگی کا انداز بدل رہا ہے ۔ اقوامِ متحدہ کے مطابق افریقہ میں 2003 سے 2008ء کے دوران، موبائل فون خریدنے والوں کی تعداد پانچ کروڑ 40 لاکھ سے بڑھ کر تقریباً 35 کروڑ ہو گئی۔ اضافے کی یہ شرح دنیا بھر میں سب سے زیادہ ہے ۔

Kingsley کہتے ہیں کہ موبائل فون پیسہ بھیجنے سے لے کر مارکیٹ میں کھانے پینے کی چیزیں خریدنے تک، ہر کام کے لیے استعمال ہوتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ نوجوانوں میں سیاسی مقاصد کے لیے موبائل فونز کا استعمال بڑھتا جا رہا ہے ۔ مثلاً نائجیریا میں نوجوان لوگ اپنے فونز کے ذریعے اگلے انتخاب کے بارے میں شعور پیدا کر رہے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ ’’ٹھیک اس وقت جب ہم یہ باتیں کر رہے ہیں، نوجوان فون نمبر جمع کررہے ہیں کیوں کہ وہ بہت بڑے پیمانے پر ٹیکسٹ میسیج بھیجنے کی مہم شروع کرنے والے ہیں۔ آنے والے انتخاب میں یہ کام بہت اہم ہو گا۔ میں نے سنا ہے کہ گھانا میں یہ کام کیا جا رہا ہے، اور کیمرون میں بھی اس کی تیاری ہو رہی ہے ۔ لوگ انتخابی مہمو ں میں موبائل فونز کے استعمال کی اہمیت کو سمجھنے لگے ہیں‘‘۔

انٹرنیٹ مارکیٹنگ ریسرچ فرم Miniwatts Group کے مطابق، دنیا بھر میں انٹرنیٹ استعمال کرنے والوں کی تعداد ایک اعشاریہ سات ارب ہے ۔ افریقہ میں چھہ کروڑ 70 لاکھ افراد انٹرنیٹ استعمال کرتے ہیں جب کہ 2000ء میں ان کی تعداد صرف 45 لاکھ تھی۔