واشنگٹن میں اسلامی فن پاروں کی نمائش

Egyptian protesters try to tear down a cement wall built to prevent them from reaching parliament and the Cabinet building near Tahrir Square in Cairo.

حال ہی میں واشنگٹن میں فن گیلری کے نام سے اسلامی دنیا کے فن خطاطی اور آرٹ کے نادر نمونے نمائش کے لیے رکھے گئے ہیں۔ جن میں آرٹ سے دلچسپی رکھنے والے افراد گہری دلچسپی لے رہے ہیں۔

http://www.youtube.com/embed/i0FuzI4nzao

قدیم اسلامی آرٹ سے مزین اس گیلری میں، جسے فن گیلری کا نام دیا ہے، مصوری کے نمونوں کے علاوہ مشرق وسطی اور اسلامی دنیا کے16ویں سے 19 ویں صدی میں ہاتھ سے لکھے ہوئے قرآن پاک کے اوراق اور قدیم نقشے بھی رکھے گئے ہیں۔

اس کے علاوہ موجودہ اسلامی دنیا سے متعلق تصاویر ، خطاطی کے نمونے ، کتابیں ، کپڑے اور زیورات بھی لوگوں کی توجہ کا مرکز رہے۔

یہ گیگری جوڈیتھ لیتھم کے تعاون سے قائم کی گئی ہے جو ایک مقامی غیر منافع بخش تنظیم امریکن ٹاسک فورس آن فلسطین کی کارکن ہیں ۔ان کا کہناہے کہ اس گیلری کا مقصد واشنگٹن میں موجود ایسے لوگوں کو اسلامی دنیا ے فنون سے متعارف کروانا ہے جنھوں نے کبھی مشرق وسطی اور اسلامی دنیا کا سفر نہیں کیا۔

جوڈیتھ خود بھی بیشتر اسلامی ممالک کا سفر کر چکی ہیں ۔ وہ کہتی ہیں کہ جب میں نے یہ آرٹ دیکھا تو مجھے دلچسب لگا اور میں نے اسلامی دنیا کا سفر کیا، اب میں مغل آرٹ میں دلچسپی لے رہی ہوں۔

اس آرٹ گیلری میں رکھے گئے بیشتر فن پارے جارج لین سارس کے جمع کردہ ہیں ۔ وہ 35 برسوں سے ان فن پاروں کو اکھٹا کررہے ہیں۔ان کا کہنا ہے کہ آرٹ کے ذریعے لوگوں کے ذہنوں کو بدلا جاسکتا ہے۔

عماد الدین ایک مقامی یونیورسٹی میں پروفیسر ہیں اور فلسطینی تھنک ٹینک سے تعلق رکھتے ہیں اور جارج سے اتفاق کرتے ہیں۔عماد کا کہناہے کہ اس ملک میں فلسطین کا نام سن کر اکثر لوگوں کے ذہن میں سیاست آتی ہے، چاہے وہ ہمدردی ہو یا مخالفت لیکن سیاست حاوی ہوتی ہے۔ اس طرح کی کوششوں سے انھیں ایک مختلف چیز دیکھنے اور سوچنے کو ملے گی۔

جوڈیتھ لیتھم کا کہناہے کہ اس گیلری کا ایک اور اچھا مقصد بھی ہے وہ یہ کہ اس گیلری میں رکھا گیا آرٹ برائے فروخت بھی ہے جس سے حاصل ہونے والی رقم کو فلسطین میں خیراتی کاموں پر خرچ کیا جائے گا۔