اسرائیلی پارلیمانی انتخابات، نیتن یاہو کو برتری حاصل

فائل

ابتدائی غیرسرکاری نتائج کے منٹوں کے اندر اندر مسٹر نیتن یاہو نے فیس بک پر ایک بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ اِس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اسرائیلی چاہتے ہیں کہ میں وزیر اعظم کے طور پر خدمات جاری رکھوں، اور یہ کہ میں ایک وسیع تر حکومت تشکیل دوں
منگل کے روز ہونے والے اسرائیل کےپارلیمانی انتخابات کےنتائج کے بارے میں سامنے آنے والے اندازوں سے پتا چلتا ہے کہ وزیر اعظم بینجامن نیتن یاہو کی لیکوڈ پارٹی ایک مختصر سی اکثریت سے جیت رہی ہے، جس سے قبل حران کُن طور پر معتدل خیالات رکھنے والی پارٹی بہتر کارکردگی دکھا رہی تھی۔

پولنگ مکمل ہونے کے بعد شائع ہونے والے اندازے بتاتے ہیں کہ 120کے پارلیمان، نیسٹ میں مسٹر نتین یاہو کی لیکوڈ باتینسو پارٹی نے 31 نشستیں جیتی ہیں، جب کہ گذشتہ ایوان میں اُن کی پارٹی کو 42سیٹیں حاصل تھیں، یعنی اب 11نشستیں کم ملی ہیں۔

معتدل اور سیکولر یش اتید نے 19نشستیں جیتی ہیں، لیبر پارٹی کو 17نشستیں حاصل ہوئی ہیں، جب کہ ہائیں بازو کی قوم پرست یہودی پارٹی نے 12سیٹیں جیتی ہیں۔

ابتدائی غیر سرکاری نتائج کے منٹوں کے اندر اندر مسٹر نیتن یاہو نے فیس بک پر ایک بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ اِس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اسرائیلی چاہتے ہیں کہ میں وزیر اعظم کے طور پر خدمات جاری رکھوں، اور یہ کہ میں ایک وسیع تر حکومت تشکیل دوں۔

اسرائیلی ابلاغ عامہ نے معتدل ییش اتید پارٹی کی کارکردگی پر حیرانگی کا اظہار کیا ہے، جس نے انتخابات سے قبل کی پیش گوئیوں سے زیادہ نشستیں حاصل کی ہیں۔

تجزیہ کار کہتے ہیں کہ ییش اتید پارٹی کے لیڈر یئر لاپید کی بہتر کارکردگی کے باعث وہ یا تو اپوزیشن کے قائد بنیں گے یا پھر بصورتِ دیگر کابینہ میں کوئی اہم عہدہ سنبھالیں گے، اگر وہ مسٹر نیتن یاہو کے حکمراں اتحاد میں شرکت کا فیصلہ کرتے ہیں۔

مسٹر نیتن یاہو، جنھیں سخت گیر اور مذہبی اتحادیوں کی حمایت حاصل ہے، اُن کے لیے بتایا جاتا ہے کہ وہ اب بھی پارلیمان میں اکثریت حاصل کرنے میں کامیاب ہو جائیں گے۔

اس سے قبل موصول ہونے والی خبروں میں قیاس کیا جارہا تھا کہ انتہائی دائیں بازو کی ابھرتی ہوئی جماعت 'جیوش ہوم پارٹی' کی عوامی مقبولیت میں اضافے کے باعث اس بار حکمران جماعت 'لیکوڈ پارٹی' کو گزشتہ انتخابات سے کم نشستیں ملیں گی۔

اسرائیل کے سیاسی حلقوں کا کہنا ہے کہ وزیرِاعظم نیتن یاہو فلسطین اور ایران کے بارے میں سخت موقف اپنانے کے باوجود اندرونِ ملک اپنی مقبولیت میں کمی آنے پر تشویش کا شکار ہیں ۔

تجزیہ کاروں کے مطابق انتخابات کے نتائج کے اعلان کے بعد نیتن یاہو بائیں بازو کی جماعتوں کے ساتھ اتحاد قائم کرسکتے ہیں، تاکہ ایک زیادہ معتدل حکومت بنانے کا تاثر اجاگر کرکے امریکہ اور دیگر اتحادی ممالک کو مطمئن کرسکیں۔

منگل کو ہونے والے انتخابات میں لگ بھگ 56 لاکھ اسرائیلی باشندے ووٹ ڈالنے کے اہل ہیں جب کہ ووٹنگ مقامی وقت کے مطابق رات 10 بجے تک جاری رہے گی۔

انتخابات کے نتائج کا اعلان بدھ کو متوقع ہے جس کے بعد کامیاب جماعتیں اتحاد بنانے کے لیے مذاکرات کا آغاز کریں گی جن کا سلسلہ کئی ہفتوں تک جاری رہنے کا امکان ہے۔

اسرائیل میں اس بار انتخابی مہم خاصی پھیکی پھیکی رہی ہے جس میں حریف سیاسی جماعتیں کسی ایک مسئلے یا معاملے کو موضوع بنانے میں مکمل طور پر ناکام رہیں۔

اسرائیل کی سیاسی تاریخ میں اب تک کوئی بھی سیاسی جماعت 120 رکنی پارلیمنٹ 'کنیسے' میں فیصلہ کن برتری حاصل نہیں کرپائی ہے اور ملک میں اتحادی حکومتیں ہی وجود میں آتی رہی ہیں۔

ماضی میں نیتن یاہو حکومت سازی کے لیے مذہبی اور رجعت پسند جماعتوں کے ساتھ اتحاد قائم کرتے آئے ہیں اور اس بار بھی امید ہے کہ وہ انتخابات کے بعد اس حالیہ انتخابی مہم کے دوران میں قومی افق پر ابھر کر سامنے آنے والے لکھ پتی تاجر نفتالی بنیٹے کی 'جیوش ہوم پارٹی' سے اتحاد بنائیں گے۔