کابل میں خودکش دھماکے، 30 افراد ہلاک

فائل فوٹو

أفغان عہدے داروں کا کہنا ہے کہ منگل کے روز کا بل میں ہونے والے خودکش دھماکوں میں کم از کم 22 افراد ہلاک اور 80 سے زیادہ زخمی ہو گئے۔

عینی شاہد وں نے بتایا کہ شورش پسندوں نے پارلیمنٹ سے نکلنے والے ایک سرکاری قافلے کو نشانہ بنایا ۔ ہلاکتوں کی تعداد میں اضافہ ہونے کا امکان ہے۔

عہدے داروں کا کہنا ہے کہ ہدف بننے والوں میں اعلیٰ سیکیورٹی عہدے دار، پارلیمنٹ کے ارکان اور عام شہری شامل ہیں۔

ابتدائی خبروں میں بتایا گیا ہے کہ ایک خودکش بمبار نے پارلیمنٹ کے دفاتر کے قریب خود کو دھماکے سے اڑا لیا، جب کہ اس کے بعد ایک اور بمبار نے بارود سے بھری ہوئی گاڑی میں دھماکہ کیا تاکہ زیادہ سے زیادہ نقصان پہنچایا جا سکے۔

عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ امدادی کارکن اور عام شہری اپنی گاڑیوں میں زخمیوں کو اسپتالوں ں میں پہنچا رہے ہیں۔

طالبان نے یہ کہتے ہوئے فوری طور پر حملے کی ذمہ داری قبول کرنے کا دعویٰ کیا کہ اس حملے میں درجنوں افراد ہلاک و زخمی ہوئے ہیں۔

اس حملے سے کئی گھنٹے پہلے سب سے بڑے جنوبی أفغان صوبے ہلمند کے صدر مقام لشکرگاہ میں ہونے والے ایک اجلاس میں ایک طالبان بمبار گھس گیا، جس میں سرکاری عہدے دار اور پولیس اہل کار شریک تھے۔

اس حملے میں کم از کم 7 افراد ہلاک اور کئی زخمی ہوگئےجن میں شہری اور سیکیورٹی اہل کار شامل ہیں۔

صوبے ہلمند کے زیادہ تر علاقے پر طالبان کا کنٹرول ہے ۔ اس علاقے میں بڑے پیمانے پر پوست کاشت کی جاتی ہے۔

کابل حکومت کا کنٹرول صوبوں کے صرف اہم شہروں پر ہے۔