کشمیر کی دلفریب وادی نیلم سیاحوں کے لیے کشش کا باعث

  • روشن مغل
وادی نیلم کا شمار پاکستانی کشمیرکی خوبصورت ترین وادیوں میں ہوتا ہے۔ جہاں دریا، صاف اور ٹھنڈے پانی کے بڑے بڑے نالے، چشمے، جنگلات اور سرسبز پہاڑ ہیں۔
پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر امن و امان اور شاہراہوں کی تعمیر کی وجہ سے سیاحوں کی توجہ کا مرکز بن گیا ہے۔ حالیہ مہینوں میں سب سے زیادہ سیاحوں نے کشمیر کو پاکستان اور بھارت کے درمیان تقسیم کرنے والی کنٹرول لائن سے منسلک وادی نیلم کا رخ کیا۔

قدرتی حسن اور وسائل سے مالا مال 250 کلومیٹر لمبی یہ وادی ماضی میں پاک بھارت افواج کے درمیان گولہ باری کا نشانہ رہی ہے، اور 2003ء میں کنٹرول لائن پر فائر بندی کے باوجود سڑک کی خستہ صورت حال، عدم تشہیر اور سہولتوں کے فقدان کے باعث اس طرف سیاحوں کا رجحان نہ تھا۔

وادی نیلم کا شمار پاکستانی کشمیرکی خوبصورت ترین وادیوں میں ہوتا ہے۔ جہاں دریا، صاف اور ٹھنڈے پانی کے بڑے بڑے نالے، چشمے، جنگلات اور سرسبز پہاڑ ہیں۔

پاکستانی کشمیر کے وزیرِ سیاحت عبدالسلام بٹ نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ گزشتہ تین ماہ میں تین لاکھ سے زائد سیاح وادی میں داخل ہوئے۔


سیاح وادی نیلم کی طرف رواں دواں

انھوں نے کہا کہ پاکستان کے زیادہ تر سیاحتی علاقے صوبہ خیبر پختو نخواء میں ہیں جو کہ دہشت گردی کے خدشے سے دوچار ہیں۔ اس کی وجہ سے سیاح کشمیر کا رخ کر رہے ہیں َجہاں انھیں نہ لٹنے کا خوف ہے اور نہ مارے جانے کا ڈر۔

’’کیونکہ کشمیر اللہ کے فضل سے تخریب کاری سے پاک ہے اور لوگوں کو جان و ما ل کا تحفظ حاصل ہے۔ ملک کے موجودہ حالات میں سیاح ایسے علاقوں کو ترجیح دیتے ہیں جہاں فطری حسن کے علاوہ جان اور مال کا تحفظ یقینی ہو۔‘‘

سیاحوں کی سہولت کے لیے وادی نیلم میں تمام چیک پوسٹیں ختم کر دی گئی ہیں ۔ سیاحوں کی بڑی تعداد میں آمد کے پیش نظر مختلف سیاحتی مقامات پر ٹینٹ ویلج قائم کئے گئے ہیں۔

سیاحوں کو راغب کرنے کے لیے تشہیر کے علاوہ پیراگلائڈنگ شو منقعد کیے گئے ہیں اور نجی سیاحتی کمپنیوں کے ذریعے بھی سیاحوں کو راغب کیا گیا ہے۔

عبدالسلام بٹ نے دعویٰ کیا کہ ان کی حکومت نے پاکستانی کشمیر میں سیاحت کے فروغ کے عملی اقدامات کیے ہیں جس کے تحت محکمہ سیاحت کے ریسٹ ھاؤسز نجی سیاحتی کمپنیوں کو لیز پر دیے گئے ہیں جن کی وجہ سے سیاحت کے شعبے کو فروغ حاصل رہا ہے۔

وزیر سیاحت نے بتایا کہ وادی نیلم کا دورہ کرنے والے سیاحوں کو 1,500 سے 2,000 روپے میں ڈبل بیڈ روم مہیا کیا جا رہا ہے جو کہ ناران ، کاغان میں 4,000 سے 5,000 روپے میں دستیاب ہے۔ جب کہ سیاحوں کے لیے اس علاقے میں گھروں کے ساتھ مہمان خانہ تعمیر کرنے کے لیے قرضے مہیا کرنے کا بھی فیصلہ کیا گیا ہے۔


وادی نیلم

وادی نیلم کے علاوہ ، پاکستانی کشمیر کے سیاحتی مقام راولاکوٹ، باغ ، سدھن گلی، وادی لیپہ اور جہلم ویلی میں بھی سیاحوں کی ریکارڈ تعداد دیکھی گئی ہے۔

پاکستانی کشمیر کے محکمہ سیاحت کے ڈائریکٹر ارشاد پیرزادہ نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ مظفرآباد اور نیلم کے علاوہ روزانہ 800 سے زائد سیاح راولاکوٹ اور 300 سے زائد باغ کا دورہ کر رہے ہیں۔ بڑی تعداد میں سیاحوں کے پاکستانی کشمیر کی طرف رخ کرنے کی وجوہات بتاتے ہوئے انھوں نے کہا کہ علاقے کی خوبصورتی اور بلا خوف وخطر آمد رفت، سڑک کی تعمیر اور صاف اور ٹھنڈے پانی کی وسیع پیمانے پر دستیابی سیاحوں کو اپنی طرف کھینچتی ہے۔

وادی نیلم میں توانائی کے سب سے بڑے منصوبے کی تعمیر بھی جاری ہے، جس کے تحت دریائے نیلم پر ایک ڈیم اور جھیل بھی تعمیر کی گئی۔