نائجیریا: اسکول کی بچیاں ہی نہیں، مغویوں کی تعداد کہیں زیادہ

سرگرم کارکنوں کا کہنا ہے مغوی نوجوانوں، لڑکیوں اور کم سن بچوں کی اصل تعداد اس سے کہیں زیادہ ہے، جنھیں 2009ء میں، جب کشیدگی کا آغاز ہوا، زبردستی یا جھانسہ دے کر اغوا کیا گیا

دنیا اس بات کی منتظر ہے کہ بوکو حرام کے شدت پسند دھڑے سے ہونے والے مذاکرات کب کامیاب ہوتے ہیں اور اپریل میں نائجیریا کے چبوک اسکول سے اغوا کی جانے والی 219 لڑکیاں کب رہا ہوتی ہیں۔

تاہم، سرگرم کارکنوں کا کہنا ہے مغوی نوجوانوں، لڑکیوں اور کم سن بچوں کی اصل تعداد اس سے کہیں زیادہ ہے، جنھیں 2009ء میں، جب کشیدگی کا آغاز ہوا، زبردستی یا جھانسہ دے کر اغوا کیا گیا۔

گذشتہ برس اِن ہتھکنڈوں میں تیزی دیکھی گئی، ایسے میں جب شدت پسندوں نے ملک کے شمال مشرق میں قصبوں اور دیہات کا کنٹرول سنبھالا۔

وائس آف امریکہ کی این لُک نے نائجیریا کے شہر، گومبے سے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ بوکو حرام نے حاجہ ہفستو بوبے کے دو جوان بیٹے اغوا کیے۔ اُن کا کہنا ہے کہ تقریباً دو ماہ قبل، اُسی روز، اغوا کار گئوزو کے گاؤں سے 20 کے لگ بھگ بچوں کو پکڑ کر لے گئے۔

حاجہ کے بقول،’میں نے اُن کی منت سماجت کی کہ اِن بچوں کو چھوڑ دو۔ وہ مدرسے میں پڑھتے ہیں۔ اُنھوں نے جواب دیا کہ، یہی تو ہم چاہتے ہیں۔ ہم چاہتے ہیں کہ یہ ہمارے ہی اسلامی اسکولوں میں پڑھیں‘۔

اُنھوں نے کہا کہ ایک ماں کو غشی کا دورہ پڑا۔ وہ گر پڑیں۔ لیکن، اُن کے بچے مجبور تھے۔


گومبے کے شمال مشرقی علاقے میں بے گھر ہونے والے مضافات میں مقیم لوگ اُٹھ کھڑے ہوئے ہیں۔ حال ہی میں نقل مکانی کرنے والوں نے سرکار کی طرف سے قائم کردہ کیمپوں میں رہائش اختیار کر رکھی ہے۔

عبد الرحمٰن موسیٰ چھپ کر بیٹھا تھا، جب ستمبر میں شدت پسندوں نے مشیکا پر قبضہ کیا۔

موسیٰ کے الفاظ میں: ’وہ ایک سے دوسرے گھر جار رہے تھے۔ اُنھیں صحتمند مردوں کی تلاش تھی۔ جب وہ وارد ہوئے، میں نے پچھلے دروازے سے چھلانگ لگائی اور بھاگ نکلا‘۔

ایسے میں جب وہ بھاگ رہے تھے، اُس کی نظر سر بریدہ لاشوں پر نظر پڑی۔
بوکو حرام نے اِس شخص کے چار بھانجوں کے علاوہ کاشتکاروں اور والدین کو بھی پکڑ لیا، جو عسکریت پسند نہیں تھے۔

تاہم، وہ جو مزاحمت کا راستہ اپنانے کی جسارت کرتے ہیں، اُنھیں ہلاک کردیا جاتا ہے۔ اِن لوگوں سے مانوس سرگرم کارکن، جو بوکو حرام کے چنگل سے بچ نکلنے میں کامیاب ہوئے، نے بتایا ہے کہ اُنھیں لڑائی کے اگلی صفوں میں ٹھونس دیا جاتا ہے، اور یوں، اُنھیں انسانی ڈھال کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے۔

ڈمبوا سے بے گھر ہونے والے شخص، الحاجی ابوبکر عمر نے بتایا کہ، ’مجھے کوئی امید نہیں رہی۔ جب سے وہ اغوا کیے گئے ہیں، گذشتہ تین ماہ سے ہم نے اُن کے بارے میں کچھ نہیں سنا۔ میں نہیں سمجھتا کہ ہم اُن کو پھر کبھی دیکھ پائیں گے۔ ہم یہ معاملہ خدا کے سُپرد کرتے ہیں‘۔

بوکو حرام نے جولائی میں ڈمبوا پر قبضہ کیا۔ یہإں موجود لوگوں میں زیادہ تعداد ڈمبوا کے لوگوں کی ہی ہے۔ اُنھوں نے اس قصبے پر دھاوا بول دیا۔ اور اسی سال بورنو کے ساتھ والے علاقے میں بھی اِسی طرح کے مناظر نظر آئے، شدت پسند جلاؤ، گھیراؤ، نوجوان بچیوں کے اغوا، مردوں کے قتل یا اپاہج کرتے ہوئے دکھائی دیے۔

دنیا وننگو تلالہ نے بتایا کہ جوں ہی اُس نے دوڑ لگائی، گولیوں کی بوچھاڑ کی گئی، موٹر سائیکلوں پر سوار شدت پسندوں نے اُن کا پیچھا کیا۔

فوج کا کہنا ہے کہ وہ ڈمبوا پر دوبارہ قابض ہو چکی ہے۔ لیکن، اتوار کو مسلح افراد نے اُن پر پھر حملہ کیا۔ لوگ شش و پنج کا شکار ہیں۔ وہ نہیں سمجھتے کہ گھروں کی واپسی درست فیصلہ ہوگا۔