’برائے نام یومِ اقلیت بے معنی ہے‘: اقلیتی تنظیمیں

’جب تک حقیقی معنوں میں اقلیتوں کو اُن کے حقوق نہیں مل جاتے، اسے برائے نام یوم اقلیت ہی سمجھنا چاہئے۔ اُس وقت تک اِسے منانا بے معنی ہے‘

پاکستان بھر میں پیر 11 اگست کو ’یوم اقلیت‘ منایا گیا۔ لیکن، اقلیتی برادری کے حقوق کے لئے سرگرم تنظیمیں ’مینارٹیز الائنس پاکستان‘ اور’ پاکستان سکھ کونسل‘ کا کہنا ہے کہ ’جب تک حقیقی معنوں میں اقلیتوں کو ان کے حقوق نہیں مل جاتے اسے برائے نام یوم اقلیت ہی سمجھنا چاہئے۔ اس وقت تک اسے منانا بے معنی ہے۔۔۔‘

اُن کے نزدیک، ’اسے منانے کا کوئی جواز نہیں۔‘

اقلیتی برادری سے ‘محرومی‘


ان تنظیموں کا یہ بھی کہنا ہے کہ اقلیتی برادری کو سرکاری اور غیر سرکاری سطح پر نمائندگی نہ ملنے کا سب سے زیادہ افسوس ہے۔ رہی سہی کسر حقوق کے نہ ملنے نے پوری کردی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان رفتہ رفتہ اقلیتی برادری سے ’محروم‘ ہورہا ہے۔ لوگ نہ چاہتے ہوئے بھی غیروں کی سمیت دیکھ رہے ہیں۔

قائد اعظم کا تصور پاکستان
مینارٹیز الائنس پاکستان کے چیئرمین اور سابق رکن صوبائی اسمبلی مائیکل جاوید نے وائس آف امریکہ سے بات چیت میں کہا کہ ’پاکستان اپنی تاریخ کا 67واں یوم آزادی منانے والا ہے۔ ایسے موقع پر ضروری ہوگیا ہے کہ ایک مرتبہ پھر قائد اعظم محمد علی جناح کے ’تصور پاکستان‘ کو حقیقی معنوں میں پروان چڑھایا جائے۔۔۔ایک ایسا پاکستان۔۔جس میں قائد اعظم کے فرمان کے عین مطابق ہر اقلیت کو اس کا حق مل سکے۔ اقلیتی برادری ایسے پاکستان کو لبیک کہتی ہے۔ لیکن، افسوس ۔۔۔عملاً اقلیتی افراد کسمپرسی کی زندگی گزار رہے ہیں۔‘

پاکستان ہماری ’جنم بھومی‘ ہے
ادھر پاکستان سکھ کونسل کے چیف پیٹرن سردار رمیش سنگھ کا وی او اے سے پاکستان بھر میں ’یوم اقلیت‘منانے کے حوالے سے کہنا تھا ’پاکستان ہمارے گرو کی جنم بھومی ہے۔ ہمیں اس سے پیار ہے۔ ہم اسے چھوڑنا نہیں چاہتے۔ لیکن، ہمارے بے ضرر لوگوں کے قتل اور اغوا جیسے سنگین واقعات نے اقلیتی برادری کو پاکستان چھوڑ کر بیرونی دنیا کا رخ کرنے پر مجبور کردیا ہے۔ آج حالت یہ ہے کہ کوئی ہانگ کانگ تو کوئی آسٹریلیا اور کوئی کہیں تو کوئی کہیں جا رہا ہے۔‘

اقلیتی برادری کی حالت زار بیان کرنے اور حقوق کے لئے آواز اٹھانے کی غرض سے پیر کو ’مینارٹیز الائنس پاکستان‘ نے کراچی پریس کلب میں ایک اہم کانفرنس بھی منعقد کی جس کے ذریعے پاکستان سکھ کونسل کے چیف پیٹرن سردار رمیش سنگھ، سابق رکن سندھ اسمبلی بھیرو لال بالانی اور پاکستان سکھ کونسل کے رکن سردار سرن سنگھ نے بھی اپنے خیالات میڈیا کے سامنے رکھے۔

نمائندگی نہ ملنے کا سب سے بڑا دکھ
مائیکل جاوید کا کہنا ہے کہ’مذہبی اقلیتیں کسمپرسی کا شکار ہیں، عملاً اُنہیں کہیں بھی حقیقی نمائندگی حاصل نہیں۔ قومی سلامتی کانفرنس ہو، اسمبلی یا سینیٹ ہو، آئین میں تبدیلی یا انتخابی اصلاحات کے لیے کوئی کمیٹی بنے ہر فورم پر، ہر جگہ اقلیتوں کی نمائندگی کو یکسر نظرانداز کردیا جاتا ہے۔‘

مائیکل جاوید کا کہنا ہے کہ ’سپریم کورٹ کے تاریخی فیصلے کے باوجود آج تک ہمارے نمائندوں اور عبادت گاہوں کو کوئی تحفظ فراہم نہیں کیا گیا۔ حتیٰ کہ پشاور کے چرچ میں خودکش دھماکے میں مرنے والوں کے لواحقین کو اعلان کے باوجود بھی معاوضہ ادانہیں کیا گیا، اس واقعے کو پورا ایک سال گزر چکا ہے۔‘

بے ضرر لوگوں کا قتل
سردار رمیش سنگھ کا کہنا تھا ’گزشتہ دنوں پشاور میں دن دہاڑے سکھ کمیونٹی سے تعلق رکھنے والے مقامی تاجر جگ موہن سنگھ اور ان کے دو ساتھیوں پرم جیت سنگھ اور من میت سنگھ پر نامعلوم افراد نے فائرنگ کردی جس سے جگ موہن سنگھ ہلاک اور ان کے ساتھی شدید زخمی ہوگئے۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ ان کے ملزمان تاحال گرفتار نہیں ہو سکے۔‘

سابق رکن سندھ اسمبلی بھیرولال بالانی کہتے ہیں ’عمر کوٹ، سندھ میں بھی دو ہندو تاجروں اشوک کمار مالی اور ہیرا لال مالی کو قتل کردیا گیا اور ان کے ملزمان بھی آج تک گرفت میں نہیں لائے جاسکے۔‘

مائیکل جاوید کے مطابق ’دو ماہ قبل کوئٹہ میں سابق ایم پی اے ہینڈری مسیح بلوچ کو انہی کے سیکورٹی گارڈ نے فائرنگ کرکے قتل کر دیا۔ اسی طرح، عیسیٰ نگری کراچی میں گزشتہ سال پانچ مسیحی نوجوانوں کو فائرنگ کرکے ہلاک کردیا گیا اور قاتل تاحال گرفتار نہیں ہوسکے۔ جبکہ، حکومت سندھ نے مقتول خاندانوں کے لواحقین کو کسی قسم کا معاوضہ تک ادا نہیں کیا۔‘

’مرے پر سو درے‘ کے مصداق اسلام آباد میں 40 سال سے رہنے والے مسیحی کچی آبادیوں کو توڑنے کا نوٹس دے دیا گیا ہے۔ اور اُنہیں خالی کرنے کا حکم دیا جا چکا ہے جو سراسر خلاف قانون اور انسانی حقوق کے خلاف ہے۔

مطالبات : کوٹے پر فوری عمل درآمد
وائس آف امریکہ کے اس سوال پر کہ ان کے مطالبات کیا ہیں۔ مائیکل جاوید کا کہنا تھا کہ ’اقلیتوں کے لئے پانچ فیصد مخصوص کوٹے پر فوری عمل درآمد کیا جائے۔ محکمہٴپولیس اور دیگر سرکاری محکموں میں اقلیتی نوجوانوں کو ملازمتیں فراہم کی جائیں۔‘

مائیکل کہتے ہیں ’اقلیتوں میں ان حالات کی وجہ سے مایوسی اور بے چینی بڑھ رہی ہے جبکہ خوف و ہراس، اغواء برائے تاوان اور دہشت گردانہ واقعات کے سبب اقلیتی برادی کے لوگ ملک چھوڑ چھوڑ کر جارہے ہیں۔ وہ لوگ اس قدر مایوس ہیں کہ انہیں اقوام متحدہ کے شیلٹرز میں دن گذارنا بھی قبول ہے۔‘

گروگرنتھ، بائیل اور گیتا کی بے حرمتی بند کی جائے
اقلیتی تنظیموں کا مطالبہ ہے کہ ’پاکستان میں حقیقی یوم اقلیت اسی وقت با معنی نظر آئے گا جب حقوق کی بات ہوگی۔ فوری طور پر تو پشاور اور عمر کوٹ میں قتل ہونے والے افراد کے ذمے داروں اور ملزمان کو گرفتار کیا جائے۔’گرو گرنتھ‘، ’بائبل‘ اور ’گیتا‘ جیسی مقدس کتابوں کی بے حرمتی کرنے والوں کوحراست میں لیا جائے، تمام سیاسی جماعتیں اقلیتوں کو اپنی پالیسی کے مطابق ایگزیکٹیو کونسل اور پالیسی میکنگ کونسل سمیت مدر پارٹی میں شامل کریں۔‘

جداگانہ طرز انتخاب یا دوہرے ووٹ کا حق
مذکورہ تنظیموں نے یہ بھی مطالبہ کیا ہے کہ اقلیتی برادری کو قومی سلامتی کونسل میں نمائندگی، سرکاری و نیم سرکاری اداروں میں ملازمتیں دی جائیں۔، ان کے لئے مخلوط طریقہ انتخاب کو ختم کرکے جداگانہ طرز انتخاب کو بحال کیا جائے، تاکہ وہ اپنے نمائندوں کا چناؤ اپنے ووٹ کے ذریعے کرسکیں۔ اگر ایسا ممکن نہیں تو پھر اُنہیں دوہرے ووٹ کا حق دیا جائے۔‘