بےنظیربھٹو نےمعاہدے کی خلاف ورزی کی تھی: پرویز مشرف

بےنظیربھٹو نےمعاہدے کی خلاف ورزی کی تھی: پرویز مشرف

پاکستان کے سابق صدر جنرل پرویز مشرف نے عندیا دیا ہے کہ اُن کی پاکستانی سیاست میں واپسی کے لیےآل پاکستان مسلم لیگ کے نام سے پارٹی رجسٹر ہوچکی ہے۔ اُنھوں نے یہ بھی کہا کہ بے نظیر بھٹو نے الیکشن سے قبل پاکستان آکر معاہدے کی خلاف ورزی کی تھی۔

براہِ راست یہ کہے بغیر کہ یہ پارٹی اُن کے لیے رجسٹر کی گئی ہے اور وہ اُس کی لیڈرشپ سنبھالیں گے، اِس سوال کے جواب میں کہ کیا آل پاکستان مسلم لیگ کے نام سے کوئی پارٹی رجسٹر ہوئی ہے، اُنھوں نے کہا کہ ‘میرے خیال میں ہوئی ہے۔’

جب اُن سے پوچھا گیا کہ کیا وہ اِس پارٹی کی لیڈرشپ سنبھالیں گے، اُنھوں نے کہا: ’ اگر پاکستان کے لوگ چاہتے ہیں کہ میں آل پاکستان مسلم لیگ کی لیڈرشپ سنبھالوں، تو میں ضرور سنبھالوں گا۔’

پارٹی کے کوآرڈینیٹر جنرل مشرف کے سابق وکیل بیرسٹر سیف ہوں گے۔

مسٹر مشرف امریکی ریاست واشنگٹن کے صدر مقام سئیٹل میں میڈیا سے بات چیت کے رہے تھے۔ اُنھوں نے یہ بھی کہا کہ اگرچہ وہ میڈیا کو انٹرویو نہیں دیتے رہے لیکن وہ جلد ہی دوبارہ میڈیا سے بات چیت شروع کریں گے۔

بعد میں ‘فرینڈز آف پاکستان فرسٹ’ نامی تنظیم کی طرف سے منعقدہ ایک عشائیے سے خطاب کرتے ہوئے، جنرل مشرف نے کہا کہ بے نظیر بھٹو نے اپنے خلاف کیس ختم کرنے اور تیسری دفعہ وزیر اعظم بننے پر لگی پابندی ہٹانے کا مطالبہ کیا تھا، جب کہ جواب میں اُنووں نے الیکشن کے خاتمے تک پاکستان سے باہر رہنے کا وعدہ کیا تھا۔


سابق صدر کے مطابق آج پاکستان میں جو سیاستدان این آر او کے خلاف باتیں کر رہے ہیں وہی اُس وقت اِس کے حق میں تھے۔ انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان مسلم لیگ ن کے نواز شریف ’کلوزٹ طالبان’ یعنی چھپے ہوئے طالبان ہیں اور وہ پاکستان کے لیے’بڑی تباہی کا باعث بنیں گے‘۔

جنرل مشرف کو دیے گئے عشائیے میں تین سو کے قریب افراد شریک تھے۔


عشائیے میں سابق صدر نے اپنے ریکارڈ کا دفاع کیا اور کہا کہ اُن کے دور میں پاکستان ترقی کی راہوں پر گامزن تھا۔ البتہ اُنہوں نے اعتراف کیا کہ ماضی میں اُن کے پاس اقتدار میں آنے کا جواز نہیں تھا اور عالمی اور قومی سطح پر’لوگ مجھے ڈکٹیٹر سمجھتے تھے۔’


اِس کے ساتھ ساتھ اپنے سیاسی مستقبل کی طرف اشارہ کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ’اب مجھے اگر کچھ کرنا ہے تو مجھے بھاری اکثریت سے منتخب ہونا ہوگا۔’


پاکستان میں بڑھتی ہوئی بد عنوانی کا ذکر کرتے ہوئے مسٹر مشرف نے کہا کہ ’میں بہت فخر سے یہ کہتا ہوں کہ میری حکومت میں اور میری کابینہ کے وزراء میں کوئی کرپشن نہیں تھی۔’

انہوں نے اس الزام کی بھی سختی سے تردید کی کہ پاکستان کی فوج میں بد عنوانی سرایت کر گئی ہے۔


سیئٹل میں ‘فرینڈز آف پاکستان فرسٹ’ کے بورڈ کے رکن رضوان صمد نے اپنی تنظیم کا تعارف کراتے ہوئے بتایا کہ’ یہ تنظیم ڈاکٹر نسیم اشرف نے شروع کی تھی اور اس کی شاخیں امریکہ اور کینیڈا میں کھل رہی ہیں اور اس کا مقصد یہ ہے کہ جو پاکستان کے لیڈر ہیں، صحیح لیڈر ہیں ان کو لایا جائے اور پاکستانی عوام کے سامنے پروموٹ کیا جائے۔’


ڈاکٹر نسیم اشرف، صدر مشرف کے دور اقتدار میں پاکستان کرکٹ بورڈ کے چئیرمین تھے اور صدر مشرف کے قریبی ساتھیوں میں سمجھے جاتے ہیں۔

اِس کے بر عکس، اسی ہوٹل کے باہر جہاں جنرل مشرف مدعو تھے، پاکستانیوں کا ایک گروہ ان کے خلاف مظاہرہ بھی کر رہا تھا۔ مظاہرین کا کہنا تھا کہ وہ صدر مشرف کی پالیسیوں کے خلاف ہیں اور انہیں سیئٹل میں خوش آمدید نہیں کرنا چاہتے۔