دولت الاسلامیہ سے ڈیم کا قبضہ واپس کرالیا گیا: اوباما

قومی سلامتی کونسل کے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے

اخباری نمائندوں سے باتیں کرتے ہوئے، صدر اوباما نے کہا کہ اگر شدت پسندوں نے موصل ڈیم میں شگاف ڈال دیا ہوتا تو اِس کے نتیجے میں شمالی عراق میں ’تباہ کُن‘ سیلاب آتا، جس سے ہزاروں لوگوں کے ہلاک ہونے کا خدشہ لاحق تھا

صدر براک اوباما نے کہا ہے کہ امریکی فوجی مدد سے، کرُدوں نے اہم حکمتِ عملی کے حامل شمالی ڈیم کا کنٹرول دولت الاسلامیہ سے واپس کرا لیا ہے۔

وائٹ ہاؤس میں پیر کے روز اخباری نمائندوں سے باتیں کرتے ہوئے، صدر نے کہا کہ اگر شدت پسندوں نے موصل ڈیم میں شگاف ڈال دیا ہوتا تو اِس کے نتیجے میں شمالی عراق میں ’تباہ کُن‘ سیلاب آتا، جس سے ہزاروں لوگوں کے ہلاک ہونے کا خدشہ لاحق تھا۔

مسٹر اوباما نے کہا کہ امریکہ عراق میں اہم پیش رفت ہوتے دیکھ رہا ہے، جب کہ دہشت گردوں کی پیش قدمی روکی جارہی ہے، کرُدوں اور عراقی افواج کو ہتھیار اور امداد فراہم کی جارہی ہے۔


اُنھوں نے کہا کہ امریکہ عراق میں تشکیل پانے والی نئی اتحادی حکومت کی حمایت جاری رکھے گا اور ساتھ ہی عراقیوں کے لیے بین الاقوامی امداد کے حصول کے لیے بین الاقوامی حکمت عملی کی کوششیں جاری رکھے گا۔

پینٹاگان نے کہا ہے کہ پیر کے روز ڈیم کے نزدیک دولت الاسلامیہ کے شدت پسندوں کے خلاف 15 سےزائد فضائی کارروائیاں عمل میں لائی گئیں، جن میں اُن کی حربی طاقت پر سخت ضرب لگائی گئی اور اسلحے کو تباہ کیا گیا۔

موصل ڈیم شمالی عراق کے لیے خصوصی اہمیت کا حامل ہے، جس سے خطے کو بجلی اور زرعی پانی میسر آتا ہے۔