گھر کا کام کرنے سے موٹاپا کم نہ ہوگا!

برطانیہ میں ہونے والی ایک تحقیق کے مطابق، گھر کے کام کاج کو باقائدہ ورزش نہیں کہا جاسکتا، اور یوں ، اس سے وہ فوائد حاصل نہیں ہوتے جو باقائدہ ورزش کے ہیں
’وقت کم ہے اور مقابلہ سخت‘۔ ویسے تو یہ کسی ڈرامے کا ڈائلاگ ہے۔ لیکن، آج کی مصروف زندگی کی سچی عکاسی بھی کرتا ہے۔

مشینوں نے جہاں زندگی کو آسان بنا دیا ہے وہیں انسانی جسم کی مشین کو ناکارہ کردیا ہے! شاید، اِسی لئے ماہرین کہتے ہیں کہ زندگی کے ہر معاملے میں اپنے جسم کو رواں دواں رکھنے کا بہانا ڈھونڈنا چاہئیے۔

ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ گھر کی صفائی کرنا، برتن دھونا، کھانا پکانا، سیڑھی چڑھنا اترنا اور باغبانی کرنا ان تمام سرگرمیوں کو صحت مند قرار دیا جا سکتا ہے کیوں کہ کچہ نہ کرنے سے کچھ کرنا بہتر ہے۔ لیکن، برطانیہ میں ہونے والی ایک تحقیق کے مطابق، گھر کے کام کو باقائدہ ورزش نہیں کہا جاسکتا، اور یوں ،اس کے وہ فوائد نہیں جو باقائدہ ورزش کے ہیں۔

’بی ایم سی پبلک ہیلتھ‘ میں شائع ہونے والی اس رپورٹ کے مطابق، برطانیہ میں شہریوں کو ہر ہفتے150 منٹ درمیانے درجے کی جسمانی سرگرمیوں میں مصروف رہنے کا مشورہ دیا جاتا ہے، جیسے پیدل چلنا، سائکل چلانا یا مختلف کھیلوں میں حصہ لینا۔

لیکن، عوام کا نصف بھی ایسا نہیں کرتا۔ اسی لئے ،ان سے کہا جاتا ہے کہ بیٹھے رہنے سے کوئی بھی جسمانی کام کرنا بہتر ہے۔ لیکن، لوگ گھر کے کاموں کو ورزش کا متبادل سمجھ لیتے ہیں۔

تحقیق میں کہا گیا ہے کہ، ایسے لوگوں کو یہ سمجھنا چاہیئے کہ باقائدہ ورزش میں انسان کی سانسیں اور دل کی دھڑکنیں معمول سے تیز ہو جاتی ہیں اور جسم کا درجہ حرارت بڑھنے سے پسینہ آتا ہے۔ اور، ان لوگوں کا وزن بھی ان کے قد کی مناسبت سے کم رہتا ہے۔ اور یوں، وہ دائمی امراض سے موٹے لوگوں کے مقابلے میں زیادہ محفوظ رہتے ہیں۔


’وائس آف امریکہ‘ سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے پھیپھڑوں اور سانس کے امراض کے ماہر اور پاکستان چیسٹ سوسائٹی سندھ کے جنرل سکریٹری ڈاکٹر مرزا سیف اللہ بیگ کا کہنا ہے کہ معمول کے کاموں کو ورزش نہیں کہا جا سکتا۔ انسان کو باقائدہ نیت کر کے ہفتے میں پانچ سے چھ دن ہر روز 20 ورزش کرنی چاہیئے جس میں سانسیں اور دل کی دھڑکن معمول سے تیز ہو جائیں اور اسے ایک طرح کی سرمایہ کاری تصور کیا جانا چاہیئے، مستقبل کے فائدے کے لئے۔

ڈاکٹر صاحب نے کہا کہ وہ لوگ جو پھیپھڑوں کے مختلف امراض میں مبتلا ہیں، مثال کے طور پر دمے کے مریض، وہ بھی باقائدہ ورزش سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔ لیکن، انھیں پہلے اپنے معالج سے معائنہ اور مشورہ کر لینا چاہیئے۔

کراچی میں مختلف سماجی سرگرمیوں کے حوالے مشہور کراچی کلب میں ہیلتھ کلب کے انچارج محمد یوسف نے بتایا ہے کہ اول تو مختلف مشینوں کی وجہ سے گھروں میں کام کا رواج کم یا آسان ہوگیا ہے، دوسرے یہ کہ معمول کے کام میں اگر تبدیلی نہ آئے تو وہ ورزش نہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ اگر کوئی خاتون گھر میں جھاڑو پوچا کرتیں ہیں تو وہ بس ایک معمول پہ چلتی رہتی ہیں اور ان کے جسم کو کوئی چیلنج نہیں ملتا جو کہ ورزش کے لیے ضروری ہے۔ اگر وہ خاتوں گھر کے کام مختلف انداز سے کرتی ہیں یا کام کے دوران اٹھک بیٹھک یا سیڑھیاں چڑھنے اترنے جیسے کام بھی شامل کر لیتی ہیں، یعنی معمول میں تبدیلی لاتی ہیں، تو اس کا فائدہ ہوگا۔ ورنہ، معمول کا کام انسان کو تھکاتا ضرور ہے، لیکن وہ ورزش کے زمرے میں نہیں آتا۔ اور اسی لئے، اس کے وہ فوائد نہیں جو ورزش کے ہیں۔