پاک بھارت ملاقاتوں کا نیا سلسلہ

رواں سال فروری میں ہونے والی پاک بھارت سیکرٹری خارجہ ملاقات

بھارت کی خارجہ سیکرٹری نروپما راؤ آئندہ ہفتے پاکستان کا دورہ کریں گی جہاں وہ 24 جون کو اپنے پاکستانی ہم منصب سلمان بشیر کے ساتھ بات چیت میں دونوں ملکوں کے وزرائے خارجہ کے درمیا ن اسلام آباد میں 15 جولائی کو ہونے والی ملاقات کے ایجنڈے کو حتمی شکل دیں گی۔

نروپما راؤ پہلی بھارتی عہدے دار ہیں جو نومبر 2008ء میں ممبئی میں ہونے والے دہشت گردی کے واقعات کے بعد پاکستان کا دورہ کر رہی ہیں۔ ا ن حملوں میں 166 افراد ہلاک ہو گئے تھے۔

وزارت خارجہ کے ترجمان عبدالباسط نے وائس آف امریکہ سے ایک خصوصی گفتگو میں کہا ہے کہ پاک بھارت رابطوں کی بحالی ایک خوش آئند پیش رفت ہے کیونکہ بات چیت میں تعطل کافائدہ اُن کے بقول ایسی قوتوں کو ہوتا ہے جو پاکستان اور بھارت کے درمیان بہتر تعلقات کی مخالف ہیں ۔

عبدالباسط نے کہا کہ دونوں ملکوں کو اس بات کو یقینی بنانے کی ضرورت ہے کہ مستقبل میں دو طرفہ امن بات چیت میں کوئی تعطل نہیں آنا چاہیئے ۔ انھوں نے کہا کہ بلاشبہ پاکستان اور بھارت
میں باہمی اعتماد کا فقدان ہے اور یہ اُسی صورت دور ہو گا جب مذاکرات میں حل طلب تنازعات پرٹھوس پیش رفت ہوگی۔

بھارت کے وزیر داخلہ پی چدم برم بھی آئندہ ہفتے علاقائی تعاون کی تنظیم سارک کے اجلاس میں شرکت کرنے اسلام آباد پہنچ رہے ہیں جہاں وہ اپنے پاکستانی ہم منصب رحمن ملک سے دوطرفہ اُمور پر بات چیت بھی کریں گے۔ ترجمان عبدالباسط کا کہنا ہے کہ وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی اور اُن کے بھارتی ہم منصب ایس ایم کرشنا کے درمیان ملاقات سے پہلے اعلیٰ بھارتی عہدے داروں کے پاکستان کے دوروں سے ماحول کو سازگار بنانے میں مدد ملے گی۔

ممبئی میں دہشت گردانہ حملوں کے بعد بھارت نے اس کا الزام پاکستانی انتہاپسند تنظیموں پر لگاتے ہوئے یکطرفہ طور پر امن مذاکرات کا سلسلہ منقطع کر دیا تھا۔

وزیراعظم گیلانی اور بھارتی وزیراعظم سنگھ سارک سربراہ اجلاس کے موقع پر

تاہم اس سال اپریل میں بھوٹان میں سارک سربراہ کانفرنس کے موقع پر وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی کی بھارتی ہم منصب من موہن سنگھ کے ساتھ ملاقات میں دو طرفہ تعلقات کو معمول پر لانے کے لیے بات چیت کا عمل دوبارہ شروع کرنے کا فیصلہ کیا گیا تھا۔

پاکستان نے ممبئی کے ہلاکت خیز واقعات کی تحقیقات میں بھارتی حکومت کو مکمل تعاون کی یقین دہانی کرائی تھی تاہم اسلام آباد میں متعلقہ حکام کا کہنا ہے کہ تحقیقات کے سلسلے میں ا ب تک جو بھی شواہد بھارت نے فراہم کیے ہیں وہ پاکستان میں زیر حراست مشتبہ افرادکو مجرم ثابت کرنے کے لیے کافی نہیں۔