افغان حدود سے حملوں پر پاکستان کا احتجاج

ترجمان دفتر خارجہ تسنیم اسلم

سینیئر تجزیہ کار حسن عسکری نے وائس آف امریکہ سے گفتگو میں کہا کہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان سرحدی امور میں بہتری کے امکانات کم ہی دکھائی دیتے ہیں۔

پاکستان نے ایک بار پھر سرحد پار افغان علاقے سے "دراندازی" پر احتجاج کرتے ہوئے کابل سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اپنے علاقوں میں قائم دہشت گردوں کی پناہ گاہوں کو ختم کرے۔

جمعرات کو دفتر خارجہ کی ترجمان تسنیم اسلم نے اسلام آباد میں صحافیوں کو بتایا کہ دو روز قبل شمالی وزیرستان کے علاقے اسپن وام میں ایک سرحدی چوکی پر افغان علاقے سے درجنوں عسکریت پسندوں نے حملہ کیا تھا جس میں چار پاکستانی سکیورٹی اہلکار ہلاک ہوئے۔

ان کا کہنا تھا کہ اس تازہ واقعے پر بھی افغانستان سے احتجاج کیا گیا ہے۔

"لگ بھگ 100 دہشت گردوں کی طرف سے افغان علاقوں خوست اور پکیتکا سے بین الاقوامی سرحد کے پار سے پاکستانی علاقے پر حملہ کیا گیا تو ہم نے 17 ستمبر کو بھی بیان جاری کیا۔ ہم نے بڑے واضح اور دو ٹوک انداز میں افغانستان سے کہا کہ وہ اپنے علاقوں میں دہشت گردوں کی پناہ گاہیں ختم کرے۔"

تسنیم اسلم نے بتایا کہ افغان علاقوں میں شدت پسندوں کی قائم ہونے والی نئی پناہ گاہوں پر بھی پاکستان نے افغانستان کو اپنی تشویش سے آگاہ کیا۔

Your browser doesn’t support HTML5

افغان حدود سے حملوں پر پاکستان کا احتجاج

ان کا کہنا تھا کہ ایک ایسے وقت جب پاکستان اپنی فوج کے ذریعے شمالی وزیرستان میں دہشت گردوں کے خلاف ایک تاریخی کارروائی کر رہا ہے افغانستان کی طرف سے بھی اس سلسلے میں تمام ممکنہ تعاون کی توقع کی جارہی تھی۔ ان کے بقول کابل کو دہشت گردانہ کارروائیوں کے دوبارہ رونما ہونے سے روکنے کے لیے قابل ذکر اقدامات کرنا ہوں گے۔

پاکستان اور افغانستان ماضی میں بھی ایک دوسرے پر سرحد پر دراندازی کے الزامات عائد کرتے رہے ہیں اور یہ معاملہ دونوں ملکوں کے درمیان کشیدگی کا بھی باعث رہا ہے۔

افغان حکام کا کہنا ہے کہ پاکستانی سرحد سے ان کے علاقوں میں گولہ باری کی جاتی ہے۔ پاکستان اس الزام کو مسترد کرتے ہوئے کہتا ہے کہ سکیورٹی فورسز پاکستانی علاقوں میں کارروائی کرکے فرار ہونے والوں کے خلاف کارروائی کرتی ہیں جسے کسی طور افغان سرزمین پر حملہ تصور نہیں کیا جانا چاہیے۔

سینیئر تجزیہ کار حسن عسکری نے وائس آف امریکہ سے گفتگو میں کہا کہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان سرحدی امور میں بہتری کے امکانات کم ہی دکھائی دیتے ہیں۔

"بجائے اس کے کہ یہ آپس میں تعاون کر کے سرحد پر دراندازی کو کنٹرول کریں، افغانستان اپنے مفادات کے حوالے سے بات کرتا ہے پاکستان اپنے مفادات کے حوالے سے بات کرتا ہے، لہذا میرا خیال ہے کہ ان کے تعلقات مزید خراب ہوں گے جیسے ہی امریکی یہاں (افغانستان) سے جائیں گے افغانستان میں خلفشار بڑھے گا اور افغانستان سارا الزام پاکستان پر ڈالے گا۔"

پاکستانی فوج نے تین ماہ قبل افغان سرحد سے ملحقہ قبائلی علاقے شمالی وزیرستان میں فوجی آپریشن شروع کیا تھا جس میں اب تک غیر ملکی جنگجوؤں سمیت ایک ہزار سے زائد عسکریت پسندوں کو ہلاک کیا جاچکا ہے۔

اس آپریشن کے آغاز پر بھی پاکستانی عہدیداروں نے کابل پر زور دیا تھا کہ وہ سرحد پر اپنی جانب موثر اقدامات کرے تاکہ فوجی کارروائی سے فرار ہونے والے افغان علاقوں میں داخل ہونے میں کامیاب نہ ہوسکیں۔