سرحدی چوکی پر فائرنگ، پاکستان کا افغانستان سے احتجاج

پاکستانی دفتر خارجہ

ترجمان دفتر خارجہ نے بیان میں کہا کہ اسلام آباد محسوس کرتا ہے کہ ایسے ’’بلا اشتعال‘‘ واقعات کے دونوں ممالک کے ’’دوستانہ اور برادرانہ‘‘ تعلقات پر برے اثرات مرتب ہوں گے۔
پاکستان نے افغان سرحدی افواج کی ’’بلا اشتعال‘‘ فائرنگ پر احتجاج کرتے ہوئے اسلام آباد میں افغان سفارتخانے کے ناظم الامور کو منگل کو وزارت خارجہ میں طلب کیا۔

دفتر خارجہ سے جاری ایک بیان کے مطابق افغان سفارتکار سے مطالبہ کیا گیا کہ وہ متعلقہ حکام سے ایسے واقعات کو ’’دہرانے‘‘ سے پرہیز کرنے کا کہیں جو کہ دونوں ممالک کی سکیورٹی فورسز کے درمیان اس بارے میں موجود رابطے کے نظام کے لیے نقصان دہ ہے۔

’’افغان ناظم الامور کو یہ بتایا گیا کہ اس صورتحال کی وجہ سے کسی قسم کی مزید کشیدگی کی ذمہ داری افغان حکومت پر ہوگی۔‘‘

پاکستانی حکام کا کہنا ہے کہ افغان سرحدی چوکی سے پیر کو پاکستانی پوسٹ پر فائرنگ کی گئی جس سے پانچ فرنٹیئر کانسٹبلری کے اہلکار زخمی ہوئے۔ ان کے بقول پاکستانی افواج نے تحمل کا مظاہرہ کرتے ہوئے پہلے افغان حکام کو اس ’’شدید‘‘ خلاف ورزی کے بارے میں آگاہ کیا۔

ترجمان دفتر خارجہ اعزاز احمد چوہدری نے بیان میں کہا کہ اسلام آباد محسوس کرتا ہے کہ ایسے ’’بلا اشتعال‘‘ واقعات کے دونوں ممالک کے ’’دوستانہ اور برادرانہ‘‘ تعلقات پر برے اثرات مرتب ہوں گے۔

ترجمان اعزاز احمد چوہدری


پاک افغان سرحد پر کشیدگی ایک ایسے وقت دیکھنے میں آرہی ہے جب قبائلی علاقوں سمیت پاکستان بھر میں 11 مئی کو عام انتخابات ہونے جارہے ہیں اور اسلام آباد کئی بار کہہ چکا ہے کہ پاکستان میں فوجی آپریشن سے بھاگنے والے شدت پسندوں نے افغانستان میں پناہ لے رکھی ہے جو کہ اب وہ پاکستان میں آکر اپنی کارروائیاں کرتے ہیں۔

وائس آف امریکہ سے گفتگو میں شدت پسندوں کی افغانستان سے دراندازی کرکے قبائلی علاقوں میں ممکنہ کارروائیوں کے بارے میں ترجمان اعزاز احمد چوہدری کہنا تھا ’’ہماری خواہش تو یہی ہے کہ ایسا نا ہو۔ اسی لئے ہم انہیں کہہ رہے ہیں کہ اسے بڑھاوا نا دیا جائے یہ بلا اشتعال فائرنگ نا کی جائے۔ ہمیں توقع ہے کہ کابل ہمارے نقطہ نظر کو سمجھے گا کہ دراندازی کو روکنے کے لیے فعال سرحدی نظام بہت ضروری ہے۔‘‘

گزشتہ روز افغانستان سے ملحقہ قبائلی علاقے کرم میں مذہبی سیاسی جماعت جمیعت علماء اسلام کے ایک انتخابی اجتماع میں بم دھماکے میں 25 افراد ہلاک ہوئے تھے۔

بعض تجزیہ نگار پاک افغان سرحد پر حالیہ کشیدگی کو افغانستان کی اندرونی سیاست کا نتیجہ گردانتے ہیں۔ سینئیر صحافی اور دفاعی امور کے ماہر اعجاز حیدر کہتے ہیں

’’(حامد) کرزئی صاحب مصالحتی عمل تو چلا نہیں پا رہے اور نا ہی کرنا چاہتے ہیں اندرونی سیاسی مصلحتوں کی وجہ سے اور دوسرا افغانستان کی طرف سے سرحدوں کی نگرانی کے لیے ایس او پیز (اسٹینڈرڈ آپریشن پروسیجر) پر بھی کوئی پیش رفت نہیں ہوئی، میرے خیال میں وہ حالات ٹھیک کرنا نہیں چاہتے اس لیے ایسے واقعات ہورہے ہیں۔‘‘

افغان صدر نے حال ہی میں ایک بیان میں کہا کہ کابل اور اسلام آباد کے درمیان سرحد یا ڈیورنڈ لائن کا معاملہ اب تک حل نہیں ہوا اور افغانستان اسے سرحد تسلیم نہیں کرتا۔ تاہم پاکستان نے اس بیان کو مسترد کیا۔