پاکستان: داعش کے مبینہ کمانڈر کی گرفتاری کا دعویٰ

فائل

خبر رساں ادارے 'رائٹرز' کے مطابق کم از کم تین انٹیلی جنس اہلکاروں نے گرفتاریوں کی تصدیق کی ہے

پاکستان کے سکیورٹی حکام نے مشرقِ وسطیٰ میں سرگرم شدت پسند تنظیم دولتِ اسلامیہ (داعش) کے پاکستان میں مبینہ سربراہ اور اس کے دو ساتھیوں کو حراست میں لینے کا دعویٰ کیا ہے۔

خبر رساں ادارے 'رائٹرز' کے مطابق کم از کم تین انٹیلی جنس اہلکاروں نے گرفتاریوں کی تصدیق کی ہے تاہم حکام نے ان افراد کو حراست میں لینے کا باضابطہ اعلان تاحال نہیں کیا ہے۔

'رائٹرز' نے بدھ کو اپنی ایک رپورٹ میں دعویٰ کیا ہے کہ گرفتار ہونے والے شخص کا نام یوسف السلفی ہے جس نے دورانِ تفتیش اعتراف کیا ہے کہ وہ پاکستان میں دولتِ اسلامیہ کے نمائندے کی حیثیت سے کام کر رہا تھا۔

سکیورٹی حکام کے مطابق ملزم پاکستانی نژاد شامی شہری ہے جسے گزشتہ دنوں لاہور سے حراست میں لیا گیا تھا۔

'رائٹرز' کو ایک انٹیلی جنس اہلکار نے بتایا ہے کہ یوسف السلفی پانچ ماہ قبل ترکی سے پاکستان پہنچا تھا جہاں اس نے دولتِ اسلامیہ کی مقامی شاخ قائم کی تھی۔

اہلکار کے مطابق ملزم پاکستان آنے سے قبل شام کی سرحد عبور کرکے ترکی پہنچا تھا جہاں اسے حراست میں لے لیا گیا تھا۔ لیکن وہ کسی طرح حراست سے فرار ہو کر پاکستان پہنچنے میں کامیاب رہا تھا۔

ایک اور انٹیلی جنس اہلکار کے مطابق ملزم کے دو دیگر ساتھیوں کو بھی حراست میں لیا گیا ہے جن میں سے ایک حافظ طیب لاہور کی ایک مقامی مسجد کا پیش امام ہے۔

انٹیلی جنس اہلکار نے 'رائٹرز' کو بتایا ہے کہ دونوں ملزمان دولتِ اسلامیہ کے ساتھ مل کر لڑنے کے لیے پاکستانیوں کو بھرتی کرنے اور انہیں شام بھیجنے میں ملوث ہیں اور انہیں شدت پسند تنظیم سے ہر بھرتی کے بدلے 600 ڈالر ملتے تھے۔

یاد رہے کہ پاکستان کے اعلیٰ حکام ملک میں دولتِ اسلامیہ کی موجودگی کی تردید کرتے رہے ہیں تاہم حال ہی میں بعض پاکستانی طالبان کمانڈروں نے شدت پسند تنظیم کے ساتھ اپنی وفاداری کا اعلان کیا ہے۔