'آزادی اظہار کی صورتحال غیر تسلی بخش ہے'

فائل

پاکستان میں سیاسی و سماجی حلقوں نے ملک میں آزادی اظہار کی صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اسے غیر تسلی بخش قرار دیا ہے۔

منگل کو 'آزادی اظہار کو درپیش خطرات اور آئندہ انتخابات' کے عنوان سے اسلام آباد میں منعقدہ ایک سیمینار میں اظہار خیال کرتے ہوئے پاکستان پیپلز پارٹی کے ایک سینیئر رہنما اور سرگرم سماجی کارکن فرحت اللہ بابر نے دعویٰ کیا کہ ملک میں 'خاموش بغاوت' ہو چکی ہے، اور ان کے بقول، انتخابات سے قبل ملک میں سول حکومت بااختیار نہیں۔

اُن کے الفاظ میں، "یہ بغاوت پنجوں کے بل آئی تاکہ آواز کسی کو سنائی نہ دے۔ یہ 'کو' ہو چکا ہے اور اس کے نتیجے میں دو چیزیں آئی ہیں کہ سیاسی و سول حکومت، حکومت میں تو ہے لیکن ان کا کوئی اختیار نہیں؛ اور دوسری چیز یہ کہ صحافت کو آزادی ہے، میڈیا آزاد لگتا ہے لیکن یہ آزادی کے بغیر ہے۔"

ان کا کہنا تھا کہ آزادی اظہار کی صورتحال تسلی بخش نہیں اور صحافیوں کو ہراساں کیے جانے، ٹی وی چینلز کی غیر اعلانیہ بندش اور اخبارات کے خلاف کارروائیاں دیکھنے میں آ رہی ہیں۔

اس ضمن میں ملک کے طاقتور ترین تصور کیے جانے والے ادارے 'فوج' کی دیگر امور میں مبینہ مداخلت کی طرف انگشت نمائی کی جاتی رہی ہے۔ لیکن، فوج کے ترجمان ایسے تاثر کو رد کرتے ہوئے کہہ چکے ہیں کہ وہ جمہوریت پر یقین رکھتی ہے اور آئین کے دائرے میں رہ کر ہی اپنے فرائض انجام دے رہی ہے۔

فرحت اللہ بابر نے مطالبہ کیا کہ توہین عدالت اور سائبر کرائم کے قانون میں مناسب ترامیم کی ضرورت ہے۔

سیمینار میں شریک جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن کا کہنا تھا کہ ہر کسی کو دلیل کے ساتھ اپنی صفائی دینے کا حق حاصل ہے اور اگر ملک کو آگے چلانا ہے تو ہر کسی کو اپنی ذمہ داریوں کی پاسداری کرنا ہوگی۔

ان کے بقول، اپنی ذمہ داریوں سے ہٹ کر کام کرنے سے صورتحال میں خرابی پیدا ہوتی ہے۔

اُنھوں نے کہا کہ، "فوج ہے، ادارہ ہے، ناگزیر ہے، ریاست کا تحفظ کرتا ہے، سرحدات کا تحفظ کرتا ہے ہم اس کا احترام کرتے ہیں۔ جھگڑا اس وقت ہوتا ہے جب وہ (یہ ادارہ) سیاست میں قدم رکھتا ہے اب سیاست میں قدم رکھنے کے بعد بھی وہ کہتے ہیں کہ ہم محترم ہیں آپ ہم پر تنقید کیوں کریں۔۔۔عدلیہ محترم ہے ناگزیر ادارہ ہے اس کے بغیر ملک نہیں چلا کرتے لیکن اگر جج سیاستدان بن جائیں تو کیا کروگے۔"

دریں اثنا اسلام آباد میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے نگراں وفاقی وزیر اطلاعات سید علی ظفر کا کہنا تھا کہ حکومت آزادی اظہار پر یقین رکھتی ہے اور انتخابات میں وہ کسی بھی طرح کی الزام تراشیوں کی بجائے آئین میں تفویض کردہ اختیارات کے تحت اپنے فرائض انجام دے گی۔