سپریم کورٹ: 13 لڑکیوں کو ونی کرنے کا ازخود نوٹس

Seorang anak perempuan ikut serta dalam demonstrasi anti-pemerintah di pusat kota Bangkok (28/1). (Reuters/Nir Elias)

سپریم کورٹ کے چیف جسٹس افتخار محمد چودھری نے بلوچستان میں ایک خونی تنازعے کے تصفیے کے لیے تیرہ کمسن لڑکیوں کو متاثرہ فریق کے حوالے یا ’ونی‘ کیے جانے کا ازخود نوٹس لیتے ہوئے تمام متعلقین کو بچیوں سمیت بدھ کو طلب کر لیا ہے۔

چیف جسٹس افتخار محمود چودھری (فائل فوٹو)


اطلاعات کے مطابق جس جرگے میں لڑکیوں کو ونی کرنے کا فیصلہ کیا گیا اُس کی سربراہی طارق مسوری بگٹی نے کی جو صوبائی اسمبلی کے رکن ہیں۔

عدالت عظمٰی نے اُنھیں بھی وضاحت کے لیے طلب کیا ہے۔

متاثرہ فریق کو بدلے میں تیرہ لڑکیاں دینے کے ساتھ ساتھ جرگے نے تیس لاکھ روپے جرمانہ ادا کرنے کا بھی حکم دیا تھا۔

لیکن طارق مسوری نے جرگے میں بیھٹنے یا اس کی سربراہی سمیت تمام الزامات کو مسترد کیا ہے۔

مقامی میڈیا سے گفتگو میں ان کا کہنا تھا کہ وہ گزشتہ تین ہفتوں سے بلوچستان اسمبلی کے اجلاس میں شرکت کرنے کی وجہ سے ڈیرہ بگٹی میں موجود نہیں تھے۔

پاکستان کے بلوچستان اور خیبر پختون خواہ صوبے کے بعض حصوں میں آج بھی برسوں پرانی ’ونی‘ کی رسم موجود ہے جس میں ناراض فریق کو تنازع حل کرنے کے لیے لڑکیاں شادیوں کے لیے دے دی جاتیں ہیں۔

پاکستان کی پارلیمان نے بعض خواتین مخالف ایسی رسومات کو کالعدم قرار دینے کے لیے گزشتہ سال ایک قانون منظور کیا تھا جس میں ونی کی رسم کو بھی قابل سزا جرم قرار دیا گیا ہے، جس کی سزا سات سال اور پانچ لاکھ جرمانہ ہے۔