پاکستانی کشمیر میں معذور افراد کے لیے مصنوعی اعضا کی فراہمی

  • روشن مغل
بین الاقوامی تنظیم نے مظفرآباد میں یہ مرکز قائم کیا تھا جس میں اب تک لگ بھگ 26 ہزار معذور افراد کا مفت علاج کیا جاچکا ہے۔
پاکستان کے زیرانتظام کشمیر میں انٹرنیشنل کمیٹی آف ریڈ کراس ’’آئی سی آر سی‘‘ کی طرف سے معذور افراد کے علاج کے لیے شروع کیے گئے مرکز میں ملک کے مختلف حصوں سے معذور افراد مصنوعی اعضا کے حصول اور علاج کے لیے رجوع کر رہے ہیں۔

آٹھ اکتوبر 2005ء کو آنے والے تباہ کن زلزلے کے دو سال بعد اس بین الاقوامی تنظیم نے مظفرآباد میں یہ مرکز قائم کیا تھا جس میں اب تک لگ بھگ 26 ہزار معذور افراد کا مفت علاج کیا جاچکا ہے۔

اس بحالی مرکز سے رجوع کرنے والے افراد میں بارودی سرنگوں، بم دھماکوں، قدرتی آفات اور دیگر حادثات کے باعث جسمانی طور پر معذور ہونے والے لوگ شامل ہیں جنہیں نہ صرف بلا معاوضہ مصنوعی اعضا لگائے جاتے ہیں بلکہ انھیں اس کے ساتھ زندگی گزارنے کی بنیادی تربیت بھی فراہم کی جاتی ہے۔


پنجاب کے علاقے گوجرانولہ سے علاج کے لیے آئے ہوئے اسامہ سلیمان نے وائس آف امریکہ گفتگو میں یہاں مہیا کی جانے والی سہولتوں پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا۔

’’جو ان کی سب سے بڑی بات ہے وہ یہ کہ دوسرے اسپتالوں والے مصنوعی ٹانگ بنا کر دے دیتے ہیں کہ بس جائیں استعمال کریں، اس میں نہیں پتا چلتا کہ یہ ٹھیک ہے خراب ہے۔ ادھر جب یہ مصنوعی اعضا بنا کر دیتے ہیں تو اس کے بعد یہ تربیت دیتے ہیں اور جب تک آدمی اس کے استعمال سے صحیح طرح واقف نہیں ہو جاتا اس وقت تک یہ مریض کو جانے نہیں دیتے۔‘‘

آئی سی آر سی نے حال ہی میں اس بحالی مرکز کے چھ سال مکمل ہونے پر اس کا انتظام و انصرام کشمیر کی حکومت کے سپرد کیا ہے۔