پاکستان کی ہر ممکن مدد کریں گے: لی کی چیانگ

مسٹر لی پاکستانی سینیٹ سے خطاب کررہے ہیں

چین کے وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان کو معاشی و سماجی ترقی میں مشکلات کا سامنا ہے لیکن بطور قریبی دوست ملک بیجنگ اسلام آباد کی ہر ممکن مدد کرے گا۔
چین کے وزیراعظم لی کی چیانگ نے جمعرات کو پاکستان کے ایوان بالا یعنی سینیٹ سے خطاب میں کہا کہ اقتصادی ترقی کے حصول بشمول توانائی کے بحران پر قابو پانے کے لیے اُن کا ملک اسلام آباد کے ساتھ بھر پور تعاون کرے گا۔

اُنھوں نے کہا کہ اقتصادی تعاون، سرمایہ کاری، توانائی، زراعت اور دفاع کے شعبے میں چین پاکستان کے ساتھ مل کر بڑے منصوبے شروع کرے گا۔

وزیراعظم لی نے کہا کہ چین اپنے پڑوسی ملک کو مشکل وقت میں کبھی تنہا نہیں چھوڑے گا۔ اُنھوں نے کہا کہ دونوں ملکوں کی دوستی کی بنیاد مشترکہ اقدار پر ہے اور یہ دوطرفہ تعاون آئندہ نسلوں تک جاری رہے گا۔

مسٹر لی نے کہا کہ پاکستان کو معاشی و سماجی ترقی میں مشکلات کا سامنا ہے لیکن بطور قریبی دوست ملک بیجنگ اسلام آباد کی ہر ممکن مدد کرے گا۔

پاکستانی کی عسکری قیادت کی چینی وزیراعظم سے ملاقات


وزیراعظم لی کی چیانگ سے جمعرات کو پاکستانی فوج کے سربراہ جنرل اشفاق پرویز کیانی اور 11 مئی کے انتخابات میں کامیاب ہونے والی جماعت مسلم لیگ (ن) کے سربراہ نواز شریف نے بھی ملاقات کی۔

سرکاری میڈیا کے مطابق نواز شریف نے چینی وزیراعظم سے کہا کہ پاکستان کو درپیش توانائی کے شدید بحران پر قابو پانے کے لیے چین پاکستان کی سویلین نیوکلیئر ٹیکنالوجی کے شعبے میں مدد کرے۔

’’بڑی تفصیل کے ساتھ ہم نے اُن منصوبوں پر بات کی ہے جس سے پاکستان اور چین کی معاشی ترقی اور زیادہ بڑھے گی۔ میرے خیال میں دونوں ملکوں کا ایک دوسرے پر بڑا اعتماد ہے آنے والے وقت میں آپ دیکھیں گے کہ پاکستان اور چین کے درمیان اقتصادی ترقی عروج پر جائے گی۔‘‘

پاکستانی وزارت خارجہ کے سیکرٹری جلیل عباس جیلانی نے چینی وزیراعظم کے دورے کو انتہائی کامیاب قرار دیا۔

’’چینی وزیراعظم اپنے دورے کے دوران پاکستانی عوام، خطے کے ممالک اور بین الاقوامی برداری کو یہ پیغام دینا چاہتے تھے کہ پاکستان اُن کا اسٹریٹیجک شراکت دار ہے۔‘‘

بدھ کو پاکستان آمد کے بعد وزیراعظم لی اور صدر آصف علی زرداری کی موجودگی میں دونوں ملکوں کے درمیان اقتصادی ترقی اور دفاع کے شعبوں میں تعاون بڑھانے سمیت 11 معاہدوں اور مفاہمت کی یاداشتوںقیانگ پر دستخط کیے گئے۔

پاکستان میں چین کے وزیراعظم کے دو روزہ قیام کے دوران سکیورٹی کے انتہائی سخت انتظامات کیے گئے تھے اور وفاقی دارالحکومت میں کچھ گھنٹوں کے لیے موبائل فون کی سہولت بھی معطل کر دی گئی جب کہ اس دوران شہر کی فضائی نگرانی بھی کی جاتی رہی۔

مسٹر لی دو روزہ دورہ مکمل کرکے جمعرات کی شام پاکستان سے روانہ ہوگئے