خیبر ایجنسی: بارودی سرنگ کے دھماکے میں دو اہلکار ہلاک

فائل

افغانستان کی سرحد کے قریب پاکستان کے قبائلی علاقے خیبر ایجنسی کی وادی راجگال میں چھپے دہشت گردوں کے خلاف فوج کا آپریشن جاری ہے۔

بدھ کو اس علاقے میں بارودی سرنگ کے دھماکے میں دو اہلکار مارے گئے۔

اطلاعات کے مطابق فوجی اہلکار علاقے میں تلاشی کے کام میں مصروف تھے کہ پہلے سے بچھائی گئی بارودی سرنگ کی زد میں آ گئے۔

پاکستانی فوج نے خیبر ایجنسی میں بلند پہاڑیوں اور دروں پر مشتمل وادی راجگال میں منگل سے آپریشن شروع کیا تھا۔

فوج کے شعبہ تعلقات عامہ ’آئی ایس پی آر‘ کے ایک بیان کے مطابق منگل کو اس علاقے میں کی گئی فضائی کارروائی میں دہشت گردوں کے نو ٹھکانوں کو تباہ کیا گیا۔

جب کہ اس دوران کم از کم 14 شدت پسند مارے بھی گئے۔

فوج کے بیان کے مطابق اس علاقے میں دہشت گردوں کی پناہ گاہوں کے خاتمے اور یہاں سکیورٹی فورسز دستوں کی تعیناتی میں اضافے سے سرحد آر پار دہشت گردوں کی آمد و رفت روکنے میں بھی مدد ملے گی۔

پاکستانی فوج قبائلی علاقے خیبر ایجنسی میں اس سے قبل خیبر ون اور خیبر ٹو کے نام سے دو آپریشن کر چکی ہے اور عسکری حکام کے مطابق بیشتر علاقے کو دہشت گردوں سے صاف کروایا جا چکا ہے اور اُن کی آخری پناہ گاہوں کے خاتمے کا عمل جاری ہے۔

پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں گزشتہ ہفتے ہونے والے مہلک خودکش بم حملے کے بعد پاکستانی فوج نے ملک بھر میں دہشت گردوں کی پناہ گاہوں کے خلاف کارروائیاں تیز کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔

دریں اثنا صوبہ خیبر پختونخواہ کے ضلع بونیر میں شدت پسندوں نے ضلعی پولیس افسر محمود احمد ہمدانی کی گاڑی کو بم دھماکے سے نشانہ بنانے کی کوشش کی تاہم وہ اس میں محفوظ رہے۔